Business
40 ملین ڈالر کی فیراری: ارب پتی ہربرٹ ورتھائم نے منفرد الیکٹرک کار خرید لی
فلوریڈا کے 87 سالہ ارب پتی اور ایپل کے ابتدائی سرمایہ کار ہربرٹ ورتھائم نے فیراری کی پہلی الیکٹرک گاڑی 40 ملین ڈالر میں حاصل کر لی ہے۔ یہ گاڑی جونی آئیو کے اشتراک سے ڈیزائن کی گئی دنیا کی واحد 'لوسے' گاڑی ہے۔
امریکہ کی ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے 87 سالہ ارب پتی ہربرٹ ورتھائم نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ انہوں نے فیراری کی جانب سے تیار کردہ پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی 'لوسے' (Luce) کو نیلامی کے دوران 40 ملین ڈالر کی بھاری قیمت میں خرید لیا ہے۔ یہ گاڑی اپنی نوعیت کی واحد گاڑی ہے جس کا 'چیسس زیرو' ماڈل ایپل کے مشہور ڈیزائنر جونی آئیو کے ساتھ مل کر تیار کیا گیا تھا۔ یہ سودا نہ صرف آٹوموبائل انڈسٹری بلکہ سرمایہ کاری کی دنیا میں بھی ایک بڑی خبر سمجھا جا رہا ہے۔ ہربرٹ ورتھائم کی شناخت صرف ایک ارب پتی کے طور پر نہیں بلکہ وہ ایپل کمپنی کے ابتدائی دور کے سرمایہ کاروں میں شامل ہیں۔ انہوں نے 1980 میں ایپل کے ابتدائی پبلک افرنگ (IPO) کے دوران کمپنی کے حصص خریدے تھے، جس سے انہوں نے طویل عرصے میں بے پناہ دولت کمائی۔ ان کی جانب سے فیراری کی اس منفرد گاڑی پر 40 ملین ڈالر خرچ کرنا ان کی لگژری گاڑیوں اور ٹیکنالوجی کے امتزاج سے لگاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ فیراری کی یہ الیکٹرک گاڑی 'لوسے' اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ کمپنی کی روایتی انجن والی کاروں سے الیکٹرک مستقبل کی جانب منتقلی کا ایک سنگ میل ہے۔ جونی آئیو، جو ایپل کے ڈیزائن میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں، کا اس کار کے ڈیزائن میں شامل ہونا اسے ایک شاہکار بناتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گاڑی کی قیمت محض اس کے انجن یا باڈی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے تاریخی ڈیزائن اور نایاب ہونے کی وجہ سے اتنی زیادہ ہے، جس کی بدولت یہ گاڑی مستقبل میں ایک نایاب ترین مجموعہ (Collectors' Item) بن جائے گی۔ یہ خریداری ہربرٹ ورتھائم کے اثاثوں اور ان کے منفرد ذوق کی عکاسی کرتی ہے۔ جہاں ایک طرف دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے رجحان کو فروغ دیا جا رہا ہے، وہیں ارب پتی طبقے کی جانب سے ایسی نایاب گاڑیوں میں دلچسپی یہ ثابت کرتی ہے کہ لگژری کار مارکیٹ میں بھی اب الیکٹرک ٹیکنالوجی کا غلبہ بڑھ رہا ہے۔