LIVE
Loading Breaking News...

جم کریمر نے بٹ کوائن کیوں بیچے؟ کوانٹم کمپیوٹنگ کا خوف

News Image
مشہور مالیاتی تجزیہ کار جم کریمر نے کوانٹم کمپیوٹنگ کے مستقبل میں کرپٹو کرنسی پر اثرات کے پیش نظر اپنے تمام بٹ کوائن اثاثے فروخت کر دیے ہیں۔ ان کا یہ اقدام کرپٹو مارکیٹ میں پائے جانے والے عدم تحفظ اور تکنیکی تبدیلیوں کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی اسٹاک مارکیٹ اور سرمایہ کاری کے معروف تجزیہ کار جم کریمر نے کرپٹو کرنسی کی دنیا میں ایک بڑا ہلچل مچا دینے والا بیان دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اپنے تمام بٹ کوائن ہولڈنگز کو فروخت کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے انہوں نے بنیادی طور پر کوانٹم کمپیوٹنگ کی ٹیکنالوجی میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت اور اس کے کرپٹو سیکیورٹی پر ممکنہ منفی اثرات کا حوالہ دیا ہے۔ کریمر کا ماننا ہے کہ مستقبل قریب میں کوانٹم کمپیوٹرز اتنی طاقتور صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں جو موجودہ کرپٹو کرنسی نیٹ ورکس کی سیکیورٹی دیواروں کو توڑنے میں کامیاب ہو سکیں۔ کریمر کے اس بیان نے کرپٹو کمیونٹی میں بحث کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ جہاں بہت سے سرمایہ کاروں نے اسے کرپٹو مارکیٹ کی غیر متوقع نوعیت قرار دیا ہے، وہیں ماہرین اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ کیا واقعی کوانٹم کمپیوٹنگ بٹ کوائن کی بنیادی ٹیکنالوجی یعنی بلاک چین کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔ اگرچہ بٹ کوائن کی ہولڈنگز کو فروخت کرنے کا فیصلہ کریمر کا ذاتی اقدام ہے، تاہم ان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے مارکیٹ کے چھوٹے سرمایہ کاروں میں تحفظات پیدا ہو سکتے ہیں۔ کرپٹو مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی لچک اس طرح کے بیانات کے باوجود برقرار رہ سکتی ہے کیونکہ بٹ کوائن کی ٹیکنالوجی کو کوانٹم حملوں سے بچانے کے لیے اپ گریڈز پر بھی کام جاری ہے۔ دوسری جانب، کرپٹو مارکیٹ کے حامیوں کا موقف ہے کہ جم کریمر کا یہ بیان محض ایک قیاس آرائی پر مبنی ہے اور فی الحال کوانٹم کمپیوٹرز کو بٹ کوائن کے نیٹ ورک کو ہیک کرنے کے قابل ہونے میں کافی وقت درکار ہے۔ ان کے مطابق، جیسے جیسے کوانٹم کمپیوٹنگ میں بہتری آ رہی ہے، اسی طرح کرپٹو گرافی کے طریقے بھی جدید سے جدید تر ہوتے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کے بیرونی حملے کو ناکام بنایا جا سکے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ ڈیجیٹل اثاثوں کی دنیا میں تکنیکی ترقی اور سیکیورٹی کا مقابلہ کس قدر گہرا اور اہم ہے۔ جم کریمر کا یہ اقدام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سرمایہ کار اب صرف قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو ہی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے طویل مدتی خطرات کو بھی مدنظر رکھیں۔