World
ہسپانیہ کے سیوتا میں تارکین وطن کی یلغار، ایمرجنسی نافذ
ہسپانیہ کے شمالی افریقی انکلیو سیوتا میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سمندر کے راستے پندرہ سو سے زائد تارکین وطن پہنچ گئے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے وہاں ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیا ہے۔
ہسپانیہ کے شمالی افریقہ میں واقع خود مختار انکلیو سیوتا کی انتظامیہ نے تارکین وطن کی بے پناہ آمد کے بعد وہاں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے مختصر ترین عرصے میں پندرہ سو سے زائد تارکین وطن سمندر کے خطرناک راستوں کو عبور کر کے اس ہسپانوی علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس اچانک اور بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی نے مقامی حکام اور امدادی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ یہاں کے استقبالیہ مراکز اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ لوگوں کو سنبھال رہے ہیں۔
سیوتا اور میلیلا، جو کہ افریقی براعظم پر ہسپانیہ کے دو ایسے علاقے ہیں جو مراکش کے ساتھ زمینی سرحد رکھتے ہیں، طویل عرصے سے یورپ جانے کے خواہشمند افریقی تارکین وطن کے لیے ایک اہم گزرگاہ بنے رہے ہیں۔ سمندر پر موافق موسمی حالات اور سکیورٹی فورسز کی آنکھ بچا کر نکلنے کی کوششوں کے باعث حالیہ دنوں میں تارکین وطن کیboatز کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان میں سے بڑی تعداد کا تعلق سب صحارا افریقہ کے ممالک سے ہے جو بہتر مستقبل اور روزگار کے حصول کے لیے ہسپانیہ کے راستے یورپی یونین میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس دستیاب وسائل تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور اس انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے مرکزی حکومت سے ہنگامی بنیادوں پر مالی اور انتظامی امداد کی فوری ضرورت ہے۔ تارکین وطن کی اس بڑی تعداد کو عارضی پناہ گاہیں فراہم کرنے کے لیے سکولوں اور کھیلوں کے ہالز کو استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ پولیس اور ریسکیو ادارے بھی سمندری حدود میں مسلسل گشت کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی مزید ناگوار واقعے کو روکا جا سکے اور ڈوبنے کے خطرے سے دوچار افراد کو بروقت بچایا جا سکے۔
اس صورتحال نے ہسپانیہ اور یورپی یونین کی مجموعی امیگریشن پالیسیوں پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے زور دیا ہے کہ تارکین وطن کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے جبکہ دوسری طرف سرحدی سکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے مطالبات بھی زور پکڑ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک افریقی ممالک میں غربت، بدامنی اور روزگار کے مواقع کی کمی جیسے بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، یورپ کی طرف ہجرت کا یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہے گا اور سیوتا جیسے سرحدی علاقوں کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا۔