LIVE
Loading Breaking News...

سائبر جیٹ SJ30-2 کا نیا عالمی ریکارڈ: ہوا بازی کی تاریخ میں نیا سنگ میل

News Image
سائبر جیٹ کے SJ30-2 طیارے نے ایسٹ ٹو ویسٹ ٹرانس کانٹیننٹل سفر کا 13 سال پرانا ریکارڈ 48 فیصد کے بڑے فرق سے توڑ کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ اس پرواز کی باضابطہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے تاہم کمپنی نے اسے ہوا بازی کی صنعت میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
امریکہ کے شہر فینکس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سائبر جیٹ ایئرکرافٹ (SyberJet Aircraft) نے ہوا بازی کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے ایسٹ ٹو ویسٹ ٹرانس کانٹیننٹل سپیڈ کا 13 سالہ قدیم ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان کے جدید ترین طیارے SJ30-2 نے C-1.f ایئرکرافٹ کلاس میں یہ شاندار کارنامہ انجام دیا۔ اگرچہ اس ریکارڈ کی حتمی سرکاری تصدیق ہونا ابھی باقی ہے، لیکن ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق طیارے نے پرانے ریکارڈ کو 48 فیصد کے بھاری مارجن سے پیچھے چھوڑ دیا ہے جو کہ ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے ایک غیر معمولی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ اس ریکارڈ توڑ پرواز کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ SJ30-2 طیارے کی کارکردگی اور اس میں نصب جدید انجنوں کی ٹیکنالوجی نے اس سفر کو انتہائی تیز رفتار بنایا۔ یہ طیارہ اپنی کلاس کے دیگر جیٹ طیاروں کے مقابلے میں طویل فاصلے طے کرنے اور کم وقت میں زیادہ رفتار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کامیابی نے نہ صرف سائبر جیٹ کمپنی کی ساکھ میں اضافہ کیا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کیا ہے کہ چھوٹے اور ہلکے جیٹ طیارے (Light Jets) طویل فاصلے کی پروازوں میں کتنے موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ سائبر جیٹ کے حکام نے اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ یہ کامیابی ان کی انجینئرنگ ٹیم کی برسوں کی محنت اور تحقیق کا نتیجہ ہے۔ طیارے کے ایروڈائینامکس اور فیول ایفیشینسی نے اس ٹرانس کانٹیننٹل ریکارڈ کو قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ کمپنی اب اس پرواز کے تمام اعداد و شمار کی باضابطہ تصدیق کے عمل سے گزر رہی ہے تاکہ اسے عالمی ریکارڈ کی کتابوں میں درج کروایا جا سکے۔ یہ کامیابی مستقبل میں ہوائی سفر کی رفتار اور معیار کو بہتر بنانے کی راہ ہموار کرے گی۔ واضح رہے کہ اس طرح کے ریکارڈز ہوا بازی کی صنعت میں تکنیکی ترقی کا پیمانہ سمجھے جاتے ہیں۔ سائبر جیٹ کا SJ30-2 اب مارکیٹ میں اپنی ٹیکنالوجی اور رفتار کی بدولت ایک ممتاز مقام حاصل کر چکا ہے۔ ایوی ایشن کے شوقین افراد اور ماہرین اس خبر کو انتہائی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ کامیابی مستقبل کے تیز رفتار نجی سفر کے نئے امکانات کو جنم دیتی ہے۔