LIVE
Loading Breaking News...

امریکا میں فلک کیمروں کی تنصیب کے خلاف شدید عوامی احتجاج

News Image
امریکا میں پولیس کی جانب سے ٹریفک اور مجرموں کی نگرانی کے لیے نصب کیے گئے فلک (Flock) کیمروں کے خلاف احتجاجی لہر میں اضافہ ہو گیا ہے۔ شہریوں کی جانب سے اسے پرائیویسی میں مداخلت قرار دے کر ان کیمروں کو تباہ کرنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
امریکا بھر میں پولیس کے محکموں کی جانب سے 'فلک' (Flock) نامی نگرانی کے کیمروں کی تنصیب کا عمل تیزی سے جاری ہے، جس کا مقصد ٹریفک کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور مجرموں کا سراغ لگانا ہے۔ تاہم، اس ٹیکنالوجی کے استعمال نے عوام میں شدید غصے اور تشویش کو جنم دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں سان ڈیاگو سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جہاں شہری ان کیمروں کو اپنی ذاتی زندگی میں مداخلت قرار دے رہے ہیں۔ ایک دلچسپ واقعے میں، سان ڈیاگو کی سٹی کونسل کے اجلاس کے دوران ایک احتجاج کرنے والے شخص نے ڈارتھ ویڈر (Darth Vader) کا روپ دھار کر ان کیمروں کے خلاف اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فلک کیمروں کا نظام خودکار نمبر پلیٹ ریڈرز (ALPR) کے ذریعے گاڑیوں اور ڈرائیوروں کا ڈیٹا مسلسل اکٹھا کرتا ہے، جسے کسی بھی وقت پولیس کی طرف سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ نگرانی کا ایسا نظام ہے جو عام شہریوں کی پرائیویسی کو مکمل طور پر ختم کر رہا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے کسی بھی شخص کی نقل و حرکت کا ڈیٹا بغیر کسی وارنٹ یا عدالتی منظوری کے جمع کیا جا رہا ہے۔ احتجاج کرنے والے مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کیمروں کے ذریعے جمع کیے گئے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں یا انہیں فوری طور پر ہٹایا جائے۔ ملک کے مختلف حصوں سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ کچھ مقامات پر مظاہرین نے ان کیمروں کو نقصان پہنچایا ہے یا انہیں تباہ کر دیا ہے۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام کی جانب سے نجی نگرانی کے اس جدید نظام کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔ پولیس حکام کا موقف ہے کہ یہ ٹیکنالوجی جرائم کی شرح کم کرنے اور گمشدہ افراد کو تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے، لیکن پرائیویسی کے حامی گروپس اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک 'سرویلنس اسٹیٹ' کے قیام کی طرف پہلا قدم قرار دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید بحث و مباحثے کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ متعدد ریاستوں میں قانون ساز ادارے ان کیمروں کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے قانون سازی پر غور کر رہے ہیں۔ یہ تنازع نہ صرف ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی کے درمیان توازن کو اجاگر کرتا ہے، بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ عوام اپنے ڈیجیٹل حقوق کے حوالے سے کتنے حساس ہو چکے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر مقامی حکومتوں کو اب ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوامی آزادیوں کے تحفظ کے درمیان ایک درمیانی راستہ تلاش کرنا ہوگا۔