Pakistan
پاکستان بار کونسل کے آٹھ ارکان کا حکومتی رویے پر سخت ردعمل
پاکستان بار کونسل کے آٹھ ارکان نے عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے کو توہینِ عدالت قرار دے دیا ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں اور پی ٹی آئی کے درمیان اس معاملے پر قانونی رسہ کشی کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
پاکستان بار کونسل کے آٹھ اہم ارکان نے حال ہی میں حکومت کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کی مبینہ نافرمانی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ارکان نے اپنے مشترکہ بیان میں اسے حکومتی سطح پر عدالتی احکامات سے دیدہ دانستہ لاتعلقی قرار دیا ہے۔ ان قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے اور اس طرح کی تاخیری حربے عدالتی وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ ملک میں قانونی بحران پیدا نہ ہو۔ دوسری جانب، اس معاملے نے ملک بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس میں قانونی ماہرین حکومتی رویے پر تقسیم نظر آتے ہیں۔
ادھر اسلام آباد کے چیف کمشنر نے سپریم کورٹ میں ایک نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے جس میں عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے حکم پر جلد سماعت کی استدعا کی گئی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ سیکیورٹی اور دیگر انتظامی معاملات کے پیش نظر مذکورہ احکامات پر عمل درآمد میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی کی منتقلی کو غیر ضروری طور پر روکا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عدالتی احکامات کی آڑ میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔
اس تمام تر صورتحال کے بیچ، عمران خان کی بہن نے اڈیالہ جیل اور پمز ہسپتال کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سابق وزیر اعظم کی صحت مکمل طور پر تسلی بخش ہے اور وہ تندرست ہیں۔ تاہم، انہوں نے بھی ان کی طبی سہولیات تک رسائی اور علاج معالجے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔ حکومت نے جوابی طور پر پی ٹی آئی پر بھی عدالتی حکم کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف خود اس معاملے کو سیاسی رنگ دے کر اداروں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اب اس کیس کی آئندہ سماعت پر تمام تر نظریں مرکوز ہیں جہاں عدالت عالیہ طے کرے گی کہ حکومتی مؤقف میں وزن ہے یا پھر توہین عدالت کا نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔