World
شام پر اسرائیلی حملے کے مقاصد پر امریکی تحفظات کا اظہار
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں اسرائیلی فضائی کارروائی کا مقصد ترکی کو خطے میں ایک بڑے تنازع میں الجھانا ہو سکتا ہے۔ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ابو الظہور ایئرپورٹ پر حملہ غلط معلومات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔
شام کے فضائی اڈوں پر اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی حالیہ بمباری نے خطے میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ امریکی سفارتی ذرائع اور انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق، اسرائیل کا یہ اقدام بظاہر ایک حکمت عملی کے تحت اٹھایا گیا تھا جس کا مقصد نہ صرف شام کی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا، بلکہ ترکی کو بھی خطے کے ایک بڑے تنازع میں براہ راست ملوث کرنا تھا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ کارروائی تزویراتی غلط فہمیوں کا نتیجہ ہو سکتی ہے جس نے ترکی اور اسرائیل کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امریکی انٹیلی جنس حکام نے اپنی ابتدائی رپورٹس میں نشاندہی کی ہے کہ ابو الظہور ایئرپورٹ پر اسرائیلی حملہ بظاہر غلط معلومات اور غلط تخمینوں پر مبنی تھا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے شام کو انتباہ دیا تھا لیکن کوئی جواب نہ ملنے پر کارروائی کی گئی، تاہم عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے حملے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہیں جس کے ذریعے قابض صہیونی حکومت شام میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھانا چاہتی ہے۔ اس واقعے کے بعد ترکی اور اسرائیل دونوں نے ایک دوسرے کو سخت انتباہات جاری کیے ہیں، جس سے خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ شام کی سرزمین پراکسی جنگ کا مرکز بن سکتی ہے۔
دوسری جانب، خطے کے دیگر ممالک نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے شام میں 'تدمور لائن' سے جنوب کی طرف پیش قدمی اور عسکری کارروائیوں میں اضافہ دراصل ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے۔ یہ پیشرفت نہ صرف شام کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی اور فوجی سطح پر تصادم کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ عالمی برادری اب یہ دیکھ رہی ہے کہ کیا یہ کشیدگی کسی بڑی علاقائی جنگ کی شکل اختیار کرے گی یا سفارتی کوششوں کے ذریعے اسے قابو میں رکھا جائے گا۔