LIVE
Loading Breaking News...

اسلامک نیٹو میں بنگلہ دیش کی شمولیت: بھارت کی تشویش اور علاقائی سیاست

News Image
خطے میں بدلتی ہوئی جیوسیاسی صورتحال اور ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات نے ایک نئے 'اسلامک نیٹو' کے قیام پر بحث چھیڑ دی ہے۔ اس اتحاد میں بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت بھارت کی سکیورٹی اور سفارتی ترجیحات کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔
حال ہی میں عالمی سفارتی حلقوں میں ایک ایسے اتحاد کا تذکرہ زور پکڑ گیا ہے جسے غیر سرکاری طور پر 'اسلامک نیٹو' کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ اتحاد کی بنیاد ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان گہرے ہوتے ہوئے دفاعی اور سٹریٹجک تعلقات پر مبنی ہے۔ خطے کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ اتحاد باضابطہ شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک کے طاقت کے توازن کو تبدیل کر دے گا۔ اس بحث کا ایک اہم پہلو بنگلہ دیش کا ممکنہ کردار ہے، جس پر بھارت انتہائی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ بنگلہ دیش، جو کہ جنوبی ایشیا میں بھارت کا ایک اہم پڑوسی اور تزویراتی شراکت دار رہا ہے، اگر اس قسم کے کسی فوجی یا دفاعی بلاک کا حصہ بنتا ہے تو نئی دہلی کے لیے یہ ایک بڑی تشویش کا باعث ہوگا۔ بھارتی پالیسی سازوں کے نزدیک اسلامک نیٹو کا تصور بظاہر ایک ایسے دفاعی اتحاد کے طور پر ابھر رہا ہے جو مشترکہ مذہبی مفادات اور سکیورٹی خدشات کے گرد گھومتا ہے۔ اگر بنگلہ دیش جیسے ممالک اس اتحاد میں شامل ہوتے ہیں، تو اس سے خطے میں پاکستان اور چین کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ بھارت طویل عرصے سے جنوبی ایشیا میں اپنی بالادستی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں بڑھتے ہوئے علاقائی اتحادوں نے اس کی خارجہ پالیسی کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ ایسے اتحاد نہ صرف اس کے سکیورٹی حصار کو کمزور کر سکتے ہیں بلکہ اسے سفارتی طور پر بھی تنہا کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب، بنگلہ دیش کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ ڈھاکہ اپنی خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنے کا حامی رہا ہے، تاہم بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں کے پیش نظر اسے بھی اپنے تزویراتی انتخاب کرنے ہوں گے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کا اس اتحاد میں شامل ہونا صرف دفاعی نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی فیصلہ ہوگا۔ اگر بنگلہ دیش اپنی خارجہ پالیسی کو اسلامک نیٹو کے مقاصد سے ہم آہنگ کرتا ہے، تو اس کے بھارت کے ساتھ دیرینہ دوستانہ تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی طاقتوں، خاص طور پر اسرائیل اور امریکہ، کی اس پورے منظرنامے پر نظریں جمی ہوئی ہیں کیونکہ یہ اتحاد نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے کے پاور ڈائنامکس کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر سکتا ہے۔