LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین تنازعہ: پیوٹن نے امن مذاکرات کے دروازے بند کر دیئے

News Image
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کو خبردار کیا ہے کہ اس نے تنازعے کا پنڈورا باکس کھول دیا ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے مغرب اور یوکرین کی جانب سے پیش کردہ امن تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے اقتصادی اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک نجی ٹی وی چینل 'ویسٹی' کو دیے گئے انٹرویو کے دوران یوکرین کو شدید تنبیہ کی ہے۔ پیوٹن کا کہنا ہے کہ یوکرین نے تنازعے کا ایک ایسا 'پنڈورا باکس' کھول دیا ہے جس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور فریقین کے درمیان کسی بھی قسم کے مذاکرات کی گنجائش ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ روسی صدر نے واضح کیا کہ اب صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے اور یوکرین کو اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنے ہوں گے۔ اپنے انٹرویو کے دوران صدر پیوٹن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کی جانب سے پیش کردہ امن تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ تجاویز زمینی حقائق کے منافی ہیں اور روس کے سیکیورٹی خدشات کو نظر انداز کرتی ہیں۔ پیوٹن نے دھمکی دی کہ روس اب یوکرین کے 'سب سے کمزور' معاشی شعبوں کو ہدف بنائے گا تاکہ جنگ کی وجہ سے پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔ ان کا یہ بیان یوکرین کی معیشت کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ روس پہلے ہی یوکرین کے انفراسٹرکچر پر حملے تیز کرنے کا عندیہ دے چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ولادیمیر پیوٹن کا یہ بیان جنگی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ روس اب صرف عسکری اہداف تک محدود رہنے کے بجائے یوکرین کی اقتصادی بنیادوں کو کمزور کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پیوٹن کی جانب سے 'پنڈورا باکس' کا ذکر کرنا دراصل عالمی برادری کے لیے ایک پیغام ہے کہ روس اس تنازعے میں پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس صورتحال میں یوکرین کی معاشی مشکلات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں بھی تعطل کا شکار نظر آتی ہیں۔ اس پیش رفت نے عالمی طاقتوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف یوکرین اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے، وہیں روس اپنے جارحانہ موقف پر ڈٹا ہوا ہے۔ آنے والے دن یوکرین کے معاشی شعبے کے لیے انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ روسی حملوں کی شدت میں اضافے کا مطلب براہ راست ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونا ہے۔ عالمی برادری اب اس کشیدگی کو روکنے کے لیے نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن پیوٹن کے تازہ ترین بیانات نے امن کی امیدوں کو مزید مدہم کر دیا ہے۔