World
شام پر اسرائیلی حملہ، امریکہ کو اعتماد میں نہ لینے کا انکشاف
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل نے شام میں فضائی کارروائی سے پہلے امریکہ کو پیشگی اطلاع نہیں دی۔ دوسری جانب تل ابیب نے ان دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ضابطہ اخلاق کو مدنظر رکھا گیا۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایک اہم سفارتی تنازعہ سامنے آیا ہے جس میں امریکی عہدیدار ٹام بیرک نے اسرائیل پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے شام میں واقع ایک فوجی اڈے پر فضائی حملے کرنے سے قبل امریکہ کو کسی قسم کی پیشگی اطلاع یا مناسب وارننگ فراہم نہیں کی۔ یہ بیان خطے میں بدلتی ہوئی سٹریٹیجک صورتحال اور اتحادی ممالک کے مابین رابطوں کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔ اس واقعے نے بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے کہ آیا واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان سٹریٹیجک ہم آہنگی میں کوئی بڑی خلیج حائل ہے۔
دوسری جانب، تل ابیب نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا موقف ہے کہ ان کی کارروائیاں ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر تھیں اور اس قسم کے آپریشنز میں تمام بین الاقوامی ضابطہ اخلاق کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے کسی بھی قسم کی غفلت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے معاہدوں کا مکمل احترام کرتا ہے۔ تاہم، امریکی سفارت کار کا اصرار ہے کہ اس حملے کی نوعیت ایسی تھی جس میں امریکہ کو اعتماد میں لینا انتہائی ضروری تھا تاکہ خطے میں موجود امریکی فوجیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکتا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں پراکسی جنگوں اور علاقائی تنازعات کے باعث صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اتحادی ممالک کے درمیان سٹریٹیجک رابطوں میں اس طرح کے خلا برقرار رہے تو اس کے نتائج خطے میں موجود دیگر عالمی طاقتوں کے لیے مزید مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔ فی الحال، دونوں ممالک کی جانب سے اس معاملے پر مزید بات چیت کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے غلط فہمیوں یا ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔ واشنگٹن نے اس معاملے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل میں پیشگی اطلاع کے طریقہ کار کو مزید مضبوط کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔