LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈا کا امریکی محصولات پر جوابی کارروائی کا اعلان

News Image
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اعلان کیا ہے کہ کینیڈا امریکی تجارتی محصولات کے جواب میں ڈالر کے بدلے ڈالر کے حساب سے جوابی اقدامات کرے گا۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ کینیڈا کی حکومت امریکی انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ نئے تجارتی محصولات کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم کارنی کے مطابق کینیڈا امریکی محصولات کے جواب میں 'ڈالر کے بدلے ڈالر' کے تناسب سے جوابی ٹیکس لگائے گا، جس کا مقصد ملکی صنعتوں کے مفادات کا تحفظ اور تجارتی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں ایک نئے باب کا اضافہ کر رہا ہے، جہاں عالمی سطح پر تحفظ پسندانہ تجارتی پالیسیوں کے اثرات گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کینیڈا کی جانب سے یہ سخت مؤقف اس بات کا غماز ہے کہ اوٹاوا کسی بھی قسم کے یکطرفہ تجارتی دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ 'ڈالر کے بدلے ڈالر' کی حکمت عملی کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکہ کسی مخصوص کینیڈین مصنوعات پر محصولات لگاتا ہے، تو کینیڈا بھی اتنی ہی مالیت کی امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کرے گا۔ اس اقدام سے دو طرفہ تجارت کے حجم پر براہ راست اثر پڑنے کا خدشہ ہے، کیونکہ دونوں ممالک کی معیشتیں ایک دوسرے کے ساتھ گہری وابستگی رکھتی ہیں اور سپلائی چین کے ذریعے جڑی ہوئی ہیں۔ کینیڈین حکومت کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی تجارتی منڈی میں غیریقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے محصولات کا نفاذ اکثر اپنی ملکی صنعتوں کو غیر ملکی مسابقت سے بچانے کے لیے کیا جاتا ہے، تاہم اس کے جواب میں دیگر ممالک کا ایسا ردعمل تجارتی جنگ (Trade War) کو مزید ہوا دینے کا باعث بنتا ہے۔ کینیڈا کے حکام نے زور دیا ہے کہ وہ باہمی تجارت کے فروغ کے خواہاں ہیں، لیکن اپنی خودمختاری اور معاشی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ آنے والے دنوں میں عالمی معاشی مبصرین کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ آیا دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے اس تجارتی تناؤ کو حل کرنے کی کوئی راہ نکال پاتے ہیں یا یہ معاملہ مزید سنگین صورتحال اختیار کر جائے گا۔ وزیراعظم مارک کارنی کے اس اعلان کے بعد کینیڈین کاروباری حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ محصولات کے تبادلے سے اشیاء کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ فی الحال کینیڈا کی حکومت اپنے فیصلے پر قائم نظر آتی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں تجارتی معاہدوں کے حوالے سے مزید وضاحتیں سامنے آئیں گی۔