World
کینیڈا کی جانب سے امریکی درآمدات پر جوابی ٹیرف کا اعلان
کینیڈا نے امریکی محصولات کے جواب میں اپنی تجارتی پالیسی سخت کرتے ہوئے 8 ستمبر سے امریکی درآمدات پر جوابی محصولات لگانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ کینیڈین حکومت کی جانب سے امریکی اقدام کے ردعمل میں کیا گیا ہے جس میں کینیڈا کی مصنوعات پر بھاری ڈیوٹی عائد کی گئی تھی۔
کینیڈا کی حکومت نے امریکا کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر بھاری محصولات کے نفاذ کے ردعمل میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ 8 ستمبر سے امریکی درآمدات پر جوابی محصولات کا نفاذ شروع کر دے گی۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی حکومت نے کینیڈا سے درآمد کیے جانے والے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کے سامان پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تناؤ میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ کینیڈا کے اعلیٰ حکام کے مطابق یہ اقدام قومی مفادات کے تحفظ اور ملکی صنعت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر تھا۔
کینیڈین وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے اراکین نے اس معاملے پر ہنگامی اجلاس منعقد کیے ہیں جن میں ان جوابی اقدامات کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے اچانک عائد کیے گئے محصولات بین الاقوامی تجارتی قوانین اور باہمی تعلقات کی روح کے منافی ہیں، جس کا اثر براہ راست کینیڈا کی برآمدات پر پڑ رہا ہے۔ کینیڈا کی جانب سے اب ان شعبوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے جن پر ٹیرف عائد کرنے سے امریکی معیشت اور ان کی مقامی صنعتوں کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری یہ تجارتی کشمکش عالمی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ کینیڈا کی جانب سے 8 ستمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ کینیڈین حکومت ابھی بھی سفارتی راستوں سے اس معاملے کو حل کرنے کی خواہشمند ہے، تاہم اگر واشنگٹن کی جانب سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کی گئی تو تجارتی جنگ کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ کینیڈا کی جانب سے نافذ کیے جانے والے یہ جوابی محصولات نہ صرف درآمد کنندگان بلکہ عام صارفین کے لیے بھی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنیں گے۔
فی الحال کینیڈین وزارت تجارت کی جانب سے ان مصنوعات کی حتمی فہرست تیار کی جا رہی ہے جن پر یہ محصولات لاگو ہوں گے۔ کینیڈا کا موقف رہا ہے کہ وہ ایک منصفانہ تجارتی نظام پر یقین رکھتا ہے، لیکن اپنی معیشت کو کسی بھی قسم کے غیر منصفانہ دباؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے جوابی کارروائی کرنا ان کی مجبوری ہے۔ عالمی برادری اور بین الاقوامی تجارتی تنظیمیں اب اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششوں پر غور کر رہی ہیں تاکہ شمالی امریکہ کے ان دو بڑے تجارتی شراکت داروں کے درمیان تعلقات کو مزید بگڑنے سے بچایا جا سکے۔