LIVE
Loading Breaking News...

شام میں اسرائیل اور ترکی کے درمیان جاری کشیدگی اور علاقائی سیاست کا تجزیہ

News Image
شام کے تنازع میں اسرائیل اور ترکی کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں جس نے خطے میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی اتفاق رائے کے بھی برعکس نظر آتی ہے۔
شام کی سرزمین پر جاری کشمکش میں حالیہ دنوں کے دوران ایک نئی پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے جس میں اسرائیل اور ترکی کے مفادات براہ راست ٹکرا رہے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک خطے کے اہم کھلاڑی ہیں، تاہم شام کے حوالے سے ان کے اہداف اور حکمت عملیاں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ترکی اپنی سرحدوں کی حفاظت اور کرد ملیشیا کے خلاف کارروائیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جبکہ اسرائیل کا بنیادی مقصد شام میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا اور حزب اللہ کی نقل و حمل کو نشانہ بنانا ہے۔ یہ دو مختلف ترجیحات خطے میں ایک نئے جیو پولیٹیکل ری آرڈرنگ کو جنم دے رہی ہیں جو کہ آنے والے وقت میں مزید کشیدگی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسرائیل کے اقدامات پر صرف ترکی ہی برہم نہیں ہے بلکہ یہ اقدامات وسیع تر علاقائی اور بین الاقوامی اتفاق رائے کے بھی متصادم دکھائی دیتے ہیں۔ عالمی طاقتیں بالخصوص روس اور امریکہ، جو شام کے بحران میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، اسرائیل کی یکطرفہ کارروائیوں کو خطے کے امن کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ شام کی زمینی صورتحال پر اسرائیل کی تنہائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عرب ممالک اور مغربی اتحادی بھی اب اس معاملے پر احتیاط برت رہے ہیں تاکہ شام میں جاری خانہ جنگی مزید نہ بھڑکے اور علاقائی طاقتوں کے مابین جنگ کا آغاز نہ ہو۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ شام کی سیاست اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں پرانے اتحاد کمزور پڑ رہے ہیں اور نئے محاذ کھل رہے ہیں۔ ترکی کا شام میں موجودگی کا جواز جہاں ایک طرف اپنی قومی سلامتی ہے، وہیں دوسری طرف اسرائیل کے حملے ترکی کے ان مقاصد کو متاثر کرتے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی یہ خلیج نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ عسکری میدان میں بھی ایک خاموش کشمکش کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا دونوں ممالک اپنے اختلافات کو کم کرنے کی کوئی کوشش کرتے ہیں یا یہ کشیدگی شام کے مستقبل کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گی۔