World
یورپ میں موسمیاتی تبدیلی اور جنگلات کی آگ کا خطرہ
ماہرین کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سنہ 1981 سے لے کر اب تک جنوبی یورپ میں جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات دوگنا ہو چکے ہیں۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت خطے میں ماحولیاتی بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
ماہرین اور محققین کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یورپ میں مسلسل بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلیاں جنگلات کی آگ میں بڑے پیمانے پر شدت کا سبب بن رہی ہیں۔ اس تشویشناک صورتحال کے نتیجے میں خطے کے ماحولیات اور انسانی آبادیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور حکام کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔
تحقیق کے مطابق سنہ 1981 کے مقابلے میں آج جنوبی یورپ کے علاقوں میں جنگلات میں آگ لگنے کے امکانات میں دوگنا اضافہ ہو چکا ہے۔ گرمی کی شدید لہریں، خشک سالی اور بارشوں میں کمی ایسے اہم عوامل ہیں جو آگ کو تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ جنوبی یورپی ممالک بالخصوص اسپین، یونان، اٹلی اور پرتگال میں ہر سال گرمیوں کے موسم میں جنگلات کی آگ کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں جن سے اربوں روپے مالیت کا نقصان ہوتا ہے۔
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر کاربن کے اخراج میں کمی اور عالمی حد شدت کو قابو کرنے کے لیے موثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔ آگ کے یہ بڑے واقعات نہ صرف قیمتی جنگلات اور جنگلی حیات کو خاکستر کر رہے ہیں بلکہ ماحول میں زہریلی گیسوں کے اخراج کا بھی باعث بن رہے ہیں جو مجموعی طور پر کرہ ارض کے موسمیاتی توازن کو بگاڑ رہے ہیں۔
حکومتی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جنگلات کی حفاظت کے لیے جدید مانیٹرنگ سسٹمز کا نفاذ کریں اور بروقت وارننگ کے نظام کو بہتر بنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیاری مکمل رکھی جا سکے اور قیمتی انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔