LIVE
Loading Breaking News...

ٹیسلا کی کروڑوں گاڑیاں واپس: سیکیورٹی خدشات کی تفصیلات

News Image
ٹیسلا اور دیگر چینی کار ساز کمپنیوں نے دروازوں کے ہینڈل میں تکنیکی خرابی کے باعث 40 لاکھ سے زائد گاڑیاں واپس منگوانے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
مشہور الیکٹرک کار ساز کمپنی ٹیسلا اور چین کی متعدد دیگر آٹو موبائل کمپنیوں نے ایک بڑے فیصلے کے تحت 40 لاکھ سے زائد گاڑیوں کو مارکیٹ سے واپس منگوانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام بنیادی طور پر ان گاڑیوں کے دروازوں کے ہینڈل میں پائی جانے والی تکنیکی خرابیوں اور حفاظتی خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی صورت میں یا ہینڈل کے ٹھیک طرح سے کام نہ کرنے پر مسافروں کو سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے یہ ری کال عمل میں لایا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد متعلقہ کمپنیاں اب ان تمام گاڑیوں کی مفت جانچ پڑتال اور مرمت کریں گی جن کے بارے میں شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دروازوں کے لاکنگ سسٹم میں تکنیکی نقص کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر گاڑی کسی حادثے کا شکار ہو جائے تو مسافروں کے پھنس جانے کا اندیشہ رہتا ہے۔ ٹیسلا نے اپنے صارفین سے کہا ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کو قریبی سروس سینٹرز پر لے کر آئیں تاکہ سافٹ ویئر اپڈیٹس یا ہارڈ ویئر کی تبدیلی کے ذریعے اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔ چین کی آٹو مارکیٹ میں گاڑیوں کی یہ وسیع پیمانے پر واپسی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اب حکومتیں اور کمپنیاں گاڑیوں کے حفاظتی معیارات پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ صرف ایک تکنیکی معاملہ نہیں ہے بلکہ برانڈ کی ساکھ اور صارفین کے اعتماد کا بھی سوال ہے۔ عالمی سطح پر ٹیسلا جیسے بڑے برانڈ کے لیے اس طرح کی ری کال ایک چیلنج ضرور ہے، لیکن کمپنی انتظامیہ کا موقف ہے کہ صارفین کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے۔ متعلقہ ریگولیٹری ادارے اس پورے معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ تمام متاثرہ گاڑیوں کے مالکان تک بروقت اطلاع پہنچ جائے۔ گاڑیوں کے مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کے مینوفیکچرنگ سال اور ماڈل کے مطابق اپنے قریبی ڈیلرشپ یا کسٹمر سپورٹ سینٹر سے فوری رابطہ کریں۔ اس اقدام کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ گاڑیوں کی حفاظت کے نئے معیارات پر مزید سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں اس طرح کے مسائل سے بچا جا سکے۔