Business
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان
وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ کے تناظر میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ کیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق جمعہ کے روز سے کر دیا گیا ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس بدستور برقرار ہیں۔
وفاقی حکومت نے جمعرات کے روز ملک میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمتوں میں اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نئی قیمتوں کے تحت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں ایک روپے نو پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں دو روپے بیالیس پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد اب پیٹرول کی نئی خوردنی قیمت تین سو چھتیس روپے پندرہ پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل تین سو تریانوے روپے چار پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ان قیمتوں کا اطلاق جمعہ کے روز سے کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے پیٹرول پر فی لیٹر ایک سو دس روپے اور ڈیزل پر چھیانوے روپے کے حساب سے ٹیکسز اور ڈیوٹیز بدستور وصول کیے جا رہے ہیں جو کہ اس کی مجموعی قیمت میں اہم حصہ رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے باعث گزشتہ مہینوں میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ اس سے قبل وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں جاری کشیدگی کے باعث اب ایندھن کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ کابینہ اور وزیراعظم نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو یہ ذمہ داری سونپ دی ہے کہ وہ عالمی مارکیٹ کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا فیصلہ کرے۔ تاہم حکومت کے اس روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے کے فیصلے کو آل پاکستان ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے مسترد کر دیا گیا ہے اور ایسوسی ایشن نے اس کے خلاف احتجاجی لائحہ عمل تیار کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پاکستان کی معیشت میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ پیٹرول زیادہ تر نجی گاڑیوں، چھوٹی سواریوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے جس سے براہ راست متوسط اور نچھلے متوسط طبقے کا بجٹ متاثر ہوتا ہے۔ دوسری طرف ڈیزل کی قیمتوں میں ردوبدل بھی عامتہ الناس پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے کیونکہ یہ بھاری ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی ٹیوب ویلوں، پاور پلانٹس اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان میں پیٹرول اور ایچ ایس ڈی محصولات کے بڑے ذرائع ہیں اور ان کی ماہانہ فروخت سات لاکھ سے آٹھ لاکھ ٹن کے درمیان رہتی ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ طلب صرف دس ہزار ٹن کے قریب ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مشکل عالمی حالات کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور ایندھن کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔