Entertainment
مارک رفالو کی پیراماؤنٹ اور سکائی ڈانس کے انضمام پر شدید تنقید
مشہور ہالی وڈ اداکار مارک رفالو نے پیراماؤنٹ اور سکائی ڈانس کے 111 ارب ڈالر کے انضمام کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے ایلیسن خاندان پر فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی میں حصہ لینے اور خاموشی اختیار کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔
مشہور ہالی وڈ اداکار اور سماجی کارکن مارک رفالو نے حال ہی میں پیراماؤنٹ اور سکائی ڈانس کے درمیان ہونے والے 111 ارب ڈالر کے انضمام کے معاہدے پر کڑی تنقید کی ہے۔ مارک رفالو، جو اپنی سماجی سرگرمیوں اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے حوالے سے معروف ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک سخت بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اس کاروباری سودے کو اخلاقی طور پر مشکوک قرار دیا۔ انہوں نے خاص طور پر ایلیسن خاندان کو ہدف بنایا جو اس انضمام کے مرکزی کرداروں میں شامل ہیں۔
مارک رفالو نے اپنے بیان میں ایلیسن خاندان پر براہِ راست الزام عائد کیا کہ وہ فلسطین میں جاری نسل کشی میں ملوث ہیں۔ اداکار کے مطابق، ایسے بڑے کارپوریٹ معاہدے نہ صرف منافع کی دوڑ ہیں بلکہ یہ ان طاقتوں کو مضبوط کرتے ہیں جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا میں فلسطین کی صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے، کاروباری اداروں کا اس طرح کے خاندانوں کے ساتھ الحاق کرنا ناقابل قبول ہے جو اس تباہی میں خاموش تماشائی یا براہ راست معاون بنے ہوئے ہیں۔
اداکار کا یہ بیان ہالی وڈ انڈسٹری میں ایک نئی بحث کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ جہاں ایک طرف پیراماؤنٹ اور سکائی ڈانس کا یہ انضمام میڈیا کی دنیا میں ایک بہت بڑی تبدیلی لانے جا رہا ہے، وہیں مارک رفالو جیسے فنکاروں کا اس پر موقف اختیار کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب فنکار اپنے پلیٹ فارمز کو صرف تفریح تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔ رفالو نے اپنی پوسٹ کے ذریعے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کارپوریٹ اداروں کے پیچھے چھپے چہروں کو پہچانیں اور ان کے اقدامات پر سوال اٹھائیں۔
واضح رہے کہ مارک رفالو طویل عرصے سے فلسطین کے حق میں آواز اٹھاتے رہے ہیں اور انسانی حقوق کے عالمی مسائل پر بات کرنے سے کبھی گریز نہیں کرتے۔ ان کا یہ حالیہ بیان نہ صرف ان کے مداحوں بلکہ میڈیا اور فلم انڈسٹری کے حلقوں میں بھی گہری تشویش پیدا کر رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے بیانات سے مستقبل میں بڑے سٹوڈیوز کے کاروباری فیصلوں پر اخلاقی دباؤ بڑھے گا اور انہیں اپنے کاروباری شراکت داروں کے انتخاب میں زیادہ محتاط رہنا پڑے گا۔