LIVE
Loading Breaking News...

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی نئی غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کا آغاز

News Image
اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی غیر قانونی ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کے لیے تعمیراتی بولیاں کھول دی ہیں۔ اس اقدام سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نکسورا نیوز اردو کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی غیر قانونی ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کے لیے باضابطہ طور پر تعمیراتی بولیاں طلب کر لی ہیں۔ اس تازہ ترین اقدام کا مقصد خطے میں مزید یہودی بستیوں کو وسعت دینا ہے، جسے بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری کی جانب سے اس عمل کی مسلسل مخالفت کے باوجود اسرائیلی حکام کی طرف سے اس قسم کے اقدامات جاری ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے فیصلوں سے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ اور کشیدگی میں مزید خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں ان نئی بستیوں کی تعمیر سے مقامی فلسطینی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اس سے ان کی زمینیں مزید سکڑ جائیں گی اور نقل و حرکت پر بھی پابندیاں سخت ہو جائیں گی۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بارہا اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ مقبوضہ علاقوں میں اس قسم کی تعمیرات دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں اور خطے میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس کے باوجود اسرائیلی حکومت ملکی اور سیاسی دباؤ کے تحت اس متنازع پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے، جس سے خطے میں مزید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اسرائیلی وزارتِ تعمیرات کی جانب سے جاری کردہ ان نئی بولیوں کے بعد علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ فلسطینی قیادت نے عالمی برادری سے فوری طور پر مداخلت کرنے اور اسرائیل کو اس غیر قانونی تعمیراتی عمل سے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی طاقتوں نے اس معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار رکھی تو صورتحال مزید قابو سے باہر ہو سکتی ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کا خواب مزید دور ہو جائے گا۔ نکسورا نیوز اردو اس اہم اور حساس معاملے پر اپنی نظر رکھے ہوئے ہے اور تازہ ترین اپ ڈیٹس قارئین تک پہنچاتا رہے گا۔