World
اسرائیل کے خلاف بڑھتا ہوا منفی پروپیگنڈا اور عالمی رائے عامہ
معروف تجزیہ نگار وکٹر ڈیوس ہینسن نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ عالمی سیاست میں اسرائیل کے گرد گھومنے والے منفی بیانیے عوام میں ذہنی تھکن پیدا کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے انتخابی سال کے دوران سیاسی مباحث کو بھی متاثر کیا ہے۔
معروف سیاسی تجزیہ نگار اور دانشور وکٹر ڈیوس ہینسن نے اپنی حالیہ تحریر میں اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ عالمی سیاست میں اسرائیل کے بارے میں مسلسل منفی خبریں اور پروپیگنڈا عام شہریوں کے ذہنوں میں ایک قسم کی بیزاری اور تھکن پیدا کر رہا ہے۔ 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے سال میں میڈیا کا مرکز مسلسل اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ہے، جس کے نتیجے میں عوام اب اس موضوع پر ہونے والی یکطرفہ گفتگو سے اکتاہٹ محسوس کرنے لگے ہیں۔ ہینسن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے خلاف مسلسل منفی بیانیہ نہ صرف انتخابی مباحث کا رخ موڑ رہا ہے بلکہ یہ حقیقت پسندانہ تجزئیے کی راہ میں بھی رکاوٹ بن رہا ہے۔
تجزیہ نگار کے مطابق، حماس اور اسرائیلی اقدار کے مابین فرق کو اکثر مبہم بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جس سے عام لوگوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ زمینی حقائق کیا ہیں۔ اس صورتحال میں ہزاروں بے گناہوں کی ہلاکتوں، انسانی حقوق کی پامالیوں اور تشدد کے واقعات کو جس انداز میں میڈیا میں پیش کیا جا رہا ہے، اس نے عالمی برادری میں ایک گہری تشویش کے ساتھ ساتھ شدید تھکن بھی پیدا کر دی ہے۔ ہینسن کے نزدیک یہ صورتحال ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں لوگ اب حقیقت اور پروپیگنڈے کے درمیان فرق کرنے کی سکت کھو رہے ہیں، جس سے جمہوریت اور عوامی رائے عامہ دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔
ہینسن مزید نشاندہی کرتے ہیں کہ مغربی ممالک میں انتخابی سیاست پر ان مسائل کا سایہ اتنا گہرا ہے کہ گھریلو مسائل پس پشت چلے گئے ہیں۔ مسلسل منفی کوریج کا مقصد بظاہر کسی ایک نظریے کو مسلط کرنا ہوتا ہے، لیکن اس کا الٹا اثر ہو رہا ہے اور عوام اس شور شرابے سے دور ہونا چاہتے ہیں۔ یہ کیفیت صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ سماجی سطح پر بھی تقسیم کو ہوا دے رہی ہے، جس سے معاشروں میں پولرائزیشن بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر میڈیا اور سیاسی حلقوں نے اس یکطرفہ اور تھکا دینے والے بیانیے کو تبدیل نہیں کیا، تو آنے والے وقتوں میں عوامی اعتماد میں مزید کمی آئے گی اور سیاسی استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔