Entertainment
مارلا میپلز کی نجی زندگی اور ٹرمپ سے وابستگی پر گفتگو
ڈونلڈ ٹرمپ کی سابقہ اہلیہ مارلا میپلز نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی نجی زندگی، فیشن کی دنیا میں اپنے رجحانات اور ماضی کے فیصلوں پر بات کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنی زندگی کے کسی بھی مرحلے پر پچھتاوے کا شکار نہیں ہیں۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری اہلیہ مارلا میپلز آج کل عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو کے دوران انہوں نے اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں، فیشن کی دنیا میں اپنی دلچسپی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ گزرے وقت کے بارے میں کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ مارلا میپلز، جو خود ایک اداکارہ اور ٹیلی ویژن شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ماضی کے کسی بھی فیصلے پر پچھتاوا نہیں رکھتیں کیونکہ ہر لمحے نے انہیں ایک نئی بصیرت عطا کی ہے۔
اپنی بات چیت کے دوران مارلا نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح ایک مشہور شخصیت کی سابقہ اہلیہ کے طور پر انہیں مسلسل میڈیا کی نظروں میں رہنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی یہ مستقل توجہ کبھی کبھی تھکا دینے والی ہوتی ہے، تاہم انہوں نے اسے اپنی زندگی کا حصہ تسلیم کر لیا ہے۔ فیشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کا ذاتی انداز وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوا ہے اور اب وہ ایسی چیزوں کو ترجیح دیتی ہیں جو انہیں اندرونی سکون اور اعتماد فراہم کرتی ہیں۔ وہ ہیمپٹنز جیسے مقامات پر اپنے وقت کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ جگہیں انہیں اپنی روح کو دوبارہ دریافت کرنے کا موقع دیتی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات اور اس کے بعد کی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے مارلا نے انتہائی متوازن رویہ اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہر رشتہ انسان کو کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے، اور ان کی ٹرمپ کے ساتھ وابستگی بھی ان کی زندگی کا ایک اہم باب تھا جس نے انہیں بہت کچھ سکھایا۔ انہوں نے ماضی کے بارے میں کسی قسم کی تلخی کا اظہار کرنے کے بجائے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل پر نظر رکھنا اور ہر دن کو مثبت انداز میں گزارنا ہی اصل کامیابی ہے۔
آخر میں مارلا میپلز نے ان خواتین کے لیے پیغام دیا جو میڈیا کی چکا چوند میں اپنی شناخت کھو دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ذات سے محبت کرنا اور اپنے اصولوں پر قائم رہنا ہی انسان کو طویل مدتی خوشی فراہم کر سکتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ زندگی میں آنے والی مشکلات کو شکست سمجھنے کے بجائے مواقع کے طور پر لینا چاہیے، اور اسی فلسفے کے تحت وہ آج اپنی زندگی کے ایک پرسکون اور مستحکم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔