Business
مشرق وسطیٰ کشیدگی اور مہنگائی پر وزارتِ خزانہ کی رپورٹ
وزارتِ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی مہنگائی اور بیرونی معیشت کے لیے خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم، حکومت نے مستحکم معاشی بنیادوں اور زرمبادلہ کے ذخائر کے باعث ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت پر یقین کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد: نئے مالی سال کے آغاز پر دوہرے ہندسے کی مہنگائی کی توقعات کے پیش نظر، حکومت نے جمعرات کو مشرق وسطیٰ میں نئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال سے مہنگائی اور بیرونی معاشی آؤٹ لک کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ (جولائی 2026) میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے حالات بیرونی شعبے کے لیے منفی خطرات پیدا کر رہے ہیں، تاہم حکومت برآمدات کو فروغ دینے اور ترسیلاتِ زر کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے تاکہ بیرونی شعبہ لچکدار رہے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر مالیاتی ڈسپلن، ساختی اصلاحات، صنعتی سرگرمیوں میں بہتری اور بیرونی بفرز کی بدولت معاشی سرگرمیوں کا تسلسل بحال رہنے کی توقع ہے۔ وزارتِ خزانہ نے واضح کیا کہ مالی سال 2026 میں معاشی استحکام بڑی حد تک حاصل کر لیا گیا تھا اور معیشت میں ترقی کا یہ سفر رواں مالی سال بھی جاری رہنے کی توقع ہے جس کی بنیاد مضبوط معاشی اشاریے، مینوفیکچرنگ سیکٹر کا پھیلاؤ اور زرعی شعبے کی لچک ہیں۔ توانائی کی فراہمی میں استحکام اور مالیاتی حالات میں بہتری سے مینوفیکچرنگ سرگرمیوں کو بھی مثبت مدد مل رہی ہے۔ تاہم، رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ قریبی مدت میں مہنگائی کی شرح بلند رہ سکتی ہے اور جولائی 2026 میں صارفین کی قیمتوں کا اشاریہ (CPI) نو سے دس فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ انتباہ بھی کیا گیا کہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں معمول کی بحالی امریکہ اور ایران کے درمیان دیرپا امن معاہدے سے مشروط ہے۔ دوسری جانب، معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ بین الاقوامی چیلنجز موجود ہیں، لیکن پاکستان نے حالیہ مہینوں میں اپنی مالیاتی کارکردگی کو بہتر بنایا ہے اور زر مبادلہ کے ذخائر میں بھی خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بیرون ملک ملازمت کے حصول کے لیے جون 2026 کے دوران ہزاروں پاکستانی ورکرز کا اندراج ہوا ہے جو بین الاقوامی مارکیٹ میں ملکی لیبر کی مانگ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وزارتِ خزانہ کی اس جامع رپورٹ نے ملک کے اقتصادی منظرنامے پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے اور مستحکم پالیسیوں کی بدولت معیشت کو کسی بھی بڑے بیرونی جھٹکے سے محفوظ رکھا جا سکے گا۔