Business
آبنائے ہرمز: خفیہ آئل ٹینکرز اور عالمی تیل کی قیمتوں پر اثرات
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نام نہاد ڈارک ٹینکرز عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ خفیہ جہاز امریکی پابندیوں اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باوجود تیل کی ترسیل کو ممکن بنا رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار روزانہ گزرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں، عالمی سیاسی کشیدگی اور خاص طور پر ایران اور امریکہ کے مابین تعلقات میں بگاڑ کے باعث اس خطے میں 'ڈارک ٹینکرز' یا ان جہازوں کا کردار بڑھ گیا ہے جو اپنی شناخت چھپا کر سفر کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خفیہ ٹینکرز عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کو متوازن رکھنے اور قیمتوں کو ایک خاص حد میں رکھنے کا غیر اعلانیہ ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، مئی کے بعد سے امریکی فوج نے کم از کم 660 ملین بیرل تیل کو بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ اس دوران تقریباً 40 سے زائد بڑے آئل ٹینکرز ایسے بھی دیکھے گئے جو سخت پابندیوں کے باوجود اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے متبادل راستے یا خفیہ حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ یہ سرگرمیاں نہ صرف امریکی پابندیوں کو چیلنج کر رہی ہیں بلکہ ایران کی جانب سے ممکنہ رکاوٹوں کے باوجود عالمی توانائی کی ضروریات کو بھی پورا کر رہی ہیں۔
تاہم، اس صورتحال کے سنگین خطرات بھی موجود ہیں۔ آبنائے ہرمز میں ان خفیہ جہازوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث سمندری حادثات اور تیل کے بہاؤ (آئل اسپل) کا خدشہ کافی بڑھ گیا ہے۔ بین الاقوامی جہاز رانی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو ان ٹینکرز کے لیے سفر کرنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔ کسی بھی بڑے حادثے کی صورت میں عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، جس کے براہ راست اثرات عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی صورت میں نکل سکتے ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی سطح پر توانائی کا بحران موجود ہے، ان 'ڈارک ٹینکرز' کی اہمیت برقرار رہے گی۔ اگرچہ یہ جہاز عالمی قوانین کی کچھ شقوں کو بائی پاس کرتے ہیں، لیکن عالمی معیشت کے استحکام کے لیے یہ ایک خاموش کردار ادا کر رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا امریکہ اور ایران اس سمندری گزرگاہ پر اپنے کنٹرول اور حکمت عملی میں کوئی تبدیلی لاتے ہیں یا نہیں۔