Technology
امریکی فوج کا جدید اسمارٹ فون پر مبنی جنگی نظام
امریکی فوج نے جدید دور کی جنگی ضروریات کے پیش نظر اپنے جوانوں کے سینے پر اسمارٹ فونز نصب کرنے کا جدید نظام متعارف کروا دیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی سپاہیوں کو میدانِ جنگ میں حقیقی وقت کی معلومات اور درست نیویگیشن فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
جدید دور کی جنگی حکمت عملی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور اب میدانِ جنگ میں صرف طاقت نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کا درست استعمال کامیابی کی ضمانت بن چکا ہے۔ اسی تناظر میں امریکی فوج نے اپنے جوانوں کو جدید ترین آلات سے لیس کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے، جس کے تحت سپاہیوں کے سینے پر خاص طور پر تیار کردہ اسمارٹ فونز نصب کیے جا رہے ہیں۔ یہ ڈیوائسز، جنہیں 'اینڈ یوزر ڈیوائسز' کا نام دیا گیا ہے، سپاہیوں کے لیے ایک چلتے پھرتے کمانڈ سینٹر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان اسمارٹ فونز کو سپاہیوں کی وردی کے ساتھ اس انداز میں جوڑا گیا ہے کہ وہ دورانِ آپریشن آسانی سے معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں، جبکہ ان کو چلانے کے لیے ضروری بیٹریاں ان کے پیٹھ پر موجود بیگز (بیک پیک) میں محفوظ رہتی ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد میدانِ جنگ میں معلومات کی ترسیل کو تیز تر اور محفوظ بنانا ہے۔ ان ڈیوائسز کے ذریعے سپاہی دشمن کی پوزیشن، اپنے ساتھیوں کی لوکیشن اور نقشہ جات کو حقیقی وقت (ریل ٹائم) میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے قبل سپاہیوں کو کمانڈ سینٹر سے رابطے کے لیے طویل عمل سے گزرنا پڑتا تھا، لیکن اب ایک اسمارٹ فون کی مدد سے انہیں فوری اپ ڈیٹ مل جاتی ہے۔ یہ نظام نہ صرف مواصلات کو بہتر بناتا ہے بلکہ غلط فہمیوں اور 'دوستانہ آگ' (فرینڈلی فائر) کے خطرات کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ امریکی فوج کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ہائی ٹیک آلات آنے والے وقت میں جنگی ماحول کو مکمل طور پر تبدیل کر دیں گے۔
اس منصوبے کے تحت سپاہیوں کو جدید ترین سافٹ ویئر فراہم کیے جا رہے ہیں جو مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا انالیٹکس کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ ڈیوائسز انتہائی سخت موسمی حالات اور جنگی دباؤ کے باوجود کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع مسلسل ان آلات کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے تحقیق کر رہا ہے تاکہ اسے مزید ہلکا اور پائیدار بنایا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اسمارٹ فونز محض مواصلاتی آلات نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا 'سپر پاور' ٹول ہیں جو ایک عام سپاہی کو میدانِ جنگ میں حکمت عملی بنانے اور اسے فوری نافذ کرنے کی طاقت دیتا ہے۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو ڈرونز اور دیگر خودکار جنگی مشینوں کے ساتھ بھی مربوط کیا جائے گا، جس سے امریکی فوج کی جنگی صلاحیتوں میں کئی گنا اضافہ متوقع ہے۔