Technology
اے آئی ٹولز اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر اثرات
تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے طلبہ کے ہوم ورک کے معیار کو تو بہتر بنایا ہے تاہم اس کے منفی اثرات امتحانی نتائج میں واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ ماہرین تعلیم کے مطابق طلبہ کی خود سیکھنے کی صلاحیت کم ہو رہی ہے جس سے ان کی فکری نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔
آج کل کے تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت (AI) کا کردار تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور دنیا بھر کے طالب علم اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں ان ٹولز کا کثرت سے استعمال کر رہے ہیں۔ تعلیمی ٹیکنالوجی کی ایک معروف کمپنی چیگ (Chegg) کی جانب سے گزشتہ برس کیے گئے ایک سروے میں یہ تشویشناک انکشاف ہوا کہ امیر ممالک کے 80 فیصد انڈر گریجویٹ طلبہ اپنے تعلیمی کاموں میں مصنوعی ذہانت سے مدد لے رہے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق یہ شرح برطانیہ میں 94 فیصد اور جرمنی میں 93 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اے آئی ٹولز اب طلبہ کی روزمرہ تعلیمی زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔
ابتدائی طور پر مصنوعی ذہانت کے استعمال نے طلبہ کے ہوم ورک اور اسائنمنٹس کے معیار میں بظاہر بہتری پیدا کی ہے۔ طلبہ پیچیدہ موضوعات کو سمجھنے، مضامین لکھنے اور ریاضی کے مسائل حل کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز کا سہارا لے رہے ہیں، جس سے ان کے ہوم ورک کے نمبروں میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، جب یہی طلبہ امتحانات میں بیٹھتے ہیں تو ان کی کارکردگی کا معیار توقعات کے برعکس گر جاتا ہے۔ تعلیمی ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی کے ضرورت سے زیادہ استعمال نے طلبہ کی اپنی سوچنے، سمجھنے اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیتوں کو زنگ لگا دیا ہے۔ جب طلبہ ہر کام کے لیے مصنوعی ذہانت پر انحصار کرتے ہیں، تو وہ خود سے سیکھنے کے عمل (Learning Process) سے محروم ہو جاتے ہیں۔
امتحانی نتائج میں ہونے والی حالیہ تنزلی اس بات کا ثبوت ہے کہ وقتی ہوم ورک کے لیے اے آئی کا استعمال طویل مدتی تعلیمی نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ امتحانات میں طلبہ کو کسی بھی بیرونی مدد کے بغیر اپنی دماغی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے، جہاں اے آئی ٹولز کا سہارا لینا ممکن نہیں ہوتا۔ اس رجحان نے اساتذہ اور والدین کے لیے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں بچوں کی تعلیمی تربیت کس طرح کی جائے۔ ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اے آئی کو ایک معاون کے طور پر استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ اسے سیکھنے کا متبادل بنایا جائے۔ اگر بروقت اس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو تعلیمی معیار میں مزید گراوٹ کا خطرہ موجود ہے جس کے دور رس اثرات نوجوان نسل کی پیشہ ورانہ زندگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔