World
کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی کشیدگی، وزیراعظم کارنی کا سخت ردعمل
کینیڈا کے وزیراعظم نے امریکہ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف کے نفاذ کو ایک بڑی غلطی قرار دیا ہے۔ کینیڈا نے بھی امریکہ کے اس اقدام کے جواب میں جوابی ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈا کے وزیراعظم کارنی نے امریکہ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف کے اچانک نفاذ کو ایک سنگین تزویراتی غلطی قرار دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد پیدا ہونے والی اس نئی کشیدگی نے عالمی منڈیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ کینیڈین حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف دونوں ممالک کے دیرینہ تجارتی تعلقات کو متاثر کرے گا بلکہ امریکی صارفین اور صنعتوں کے لیے بھی مہنگائی کا باعث بنے گا۔
تجارتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد کینیڈا نے اپنی پالیسی میں سخت تبدیلی لاتے ہوئے امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کارنی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا اپنی معیشت کا دفاع کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور وہ امریکی سٹیل، الیکٹرانکس اور دیگر اہم اشیاء پر 'ڈالر کے بدلے ڈالر' کی بنیاد پر ٹیرف عائد کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کبھی بھی بلاجواز معاشی دباؤ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ اقدام عالمی تجارت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارت کا حجم اربوں ڈالر پر مشتمل ہے، اور ایسے یکطرفہ فیصلوں سے سپلائی چین بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ کینیڈا کی جانب سے جوابی کارروائی کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس کے اثرات شمالی امریکہ کی مجموعی معیشت پر مرتب ہوں گے۔
وزیراعظم کارنی نے مزید کہا کہ کینیڈا ہمیشہ آزاد تجارت اور شفاف مذاکرات کا حامی رہا ہے، تاہم اگر امریکہ کی جانب سے غیر منصفانہ رویہ جاری رہا تو کینیڈا بھی اپنی تجارتی پالیسیوں کو مزید سخت کرنے پر مجبور ہوگا۔ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان سفارتی ذرائع سے رابطے جاری ہیں، لیکن ٹیرف کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ عالمی اقتصادی ماہرین اس صورتحال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ تجارتی جنگ کے نتیجے میں دونوں ممالک کے صارفین کو براہ راست نقصان پہنچ سکتا ہے۔