Business
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں: ایران پر امریکی دباؤ اور سپلائی کے خدشات
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پابندیوں کے خدشات کے پیش نظر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے ہفتے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی سرمایہ کار سپلائی میں ممکنہ خلل کے باعث تیل کی قیمتوں میں مزید تیزی کی توقع کر رہے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے ہفتے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بڑی وجہ امریکہ کی جانب سے ایران پر بڑھتا ہوا سفارتی اور اقتصادی دباؤ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور ممکنہ نئی پابندیوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں خریداروں کی جانب سے تیل کی خریداری میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کے معاہدوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی اور قیمت 87 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح برینٹ آئل کی قیمتوں میں بھی تقریباً ایک فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے جس سے یہ 94 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کے قریب پہنچ چکا ہے۔ آئی این جی (ING) جیسی عالمی مالیاتی فرموں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں تیزی کا رجحان بنیادی طور پر ایران پر پابندیوں کے خطرات اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی صورتحال سے منسلک ہے۔ سرمایہ کار اس بات پر تشویش کا شکار ہیں کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو عالمی سپلائی چین بری طرح متاثر ہو سکتی ہے، جس کا براہ راست اثر ایندھن کی قیمتوں پر پڑے گا۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کے شعبے میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کر دی ہے، جس کی وجہ سے ڈیلرز محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ ماہرین معیشت کے مطابق اگر ایران کی تیل کی برآمدات پر مکمل پابندیاں سخت کی گئیں تو عالمی منڈی میں سپلائی کا خلا پیدا ہوگا، جس سے قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ فی الحال مارکیٹ میں جاری یہ تیزی اس بات کی عکاس ہے کہ کس طرح سیاسی واقعات معاشی اشاریوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات اور پابندیوں کے حوالے سے امریکی فیصلے تیل کی قیمتوں کا مستقبل طے کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔