LIVE
Loading Breaking News...

ایران اور عراق: آبنائے ہرمز سے عراقی ٹینکرز کی نقل و حرکت پر اہم پیشرفت

News Image
ایران نے کچھ عراقی آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ توانائی کی سپلائی کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس پیشرفت کے ساتھ ہی عراقی صدر نے واضح کیا ہے کہ عراق کی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔
تہران اور بغداد کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران نے کچھ عراقی آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں توانائی کی سپلائی لائنز کی حفاظت اور سیکیورٹی کے امور عالمی سطح پر انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے، اور اس راستے پر کسی بھی قسم کی بندش عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس حوالے سے عراقی صدر نزار عمیدی نے اپنے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ عراق اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات قائم رکھنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ عراق کسی بھی صورت میں اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحیت یا حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بغداد اپنی خارجہ پالیسی میں غیر جانبداری اور استحکام کو ترجیح دے رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کا یہ فیصلہ دونوں ممالک کے مابین اقتصادی تعاون بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تیل کی برآمدات عراق کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، اور آبنائے ہرمز تک بلا تعطل رسائی عراق کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ایران اور عراق کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ مفاہمت نہ صرف دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کو مضبوط کرے گی بلکہ خطے میں مجموعی سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ آخر میں، عالمی برادری بھی اس پیشرفت کو مثبت نگاہ سے دیکھ رہی ہے کیونکہ اس سے توانائی کے عالمی بحران کے خدشات میں کمی آئے گی۔ عراقی صدر کا بیان کہ ان کی سرزمین کسی بھی جارحیت کے لیے استعمال نہیں ہوگی، خطے میں موجود کشیدگی کو کم کرنے اور پڑوسی ممالک کے مابین اعتماد سازی کے عمل کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ مستقبل میں اس تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے دونوں ممالک کے حکام کے درمیان رابطے جاری رہنے کی توقع ہے تاکہ علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔