LIVE
Loading Breaking News...

براڈ پیک برفانی تودہ: نمس دائی اور پاکستانی کوہ پیما سمیت 10 افراد لاپتہ

News Image
دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد نامور نیپالی کوہ پیما نمس دائی اور پاکستانی کوہ پیما سہیل ساکی سمیت دس کوہ پیما لاپتہ ہو گئے ہیں۔ ان سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد حکام کی جانب سے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر ایک ہولناک برفانی تودہ گرنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر نامور کوہ پیماؤں سمیت تقریبا دس افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس ناگہانی واقعے کے بعد کوہ پیماؤں کے حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور دنیا بھر سے دعاؤں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق لاپتہ ہونے والوں میں معروف نیپالی کوہ پیما نمس دائی اور ہنزہ سے تعلق رکھنے والے ممتاز پاکستانی کوہ پیما سہیل ساکی بھی شامل ہیں، جن کی حفاظت کے لیے دعاگو تمام چاہنے والے بے صبری سے تازہ ترین معلومات کا انتظار کر رہے ہیں۔ حادثے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم سے حاصل ہونے والی آخری تصاویر میں متاثرہ کوہ پیماؤں کا وہ مخصوص راستہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس پر وہ پیش قدمی کر رہے تھے، تاہم اس کے فوراً بعد ہی ان کا رابطہ بیس کیمپ اور دیگر ٹیموں سے مکمل طور پر منقطع ہو گیا۔ حکام کے مطابق خراب موسمی حالات اور انتہائی بلند برفانی علاقوں میں رسائی مشکل ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید نوعیت کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی انتظامیہ، ٹور آپریٹرز اور ریسکیو ٹیمیں صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں تاکہ موسم کی تھوڑی سی بھی بہتری کے ساتھ ہی فضائی یا زمینی امدادی آپریشن کو تیز کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق براڈ پیک پر موسم کی غیر یقینی صورتحال اور برفانی تودوں کا گرنا کوہ پیمائی کے دوران ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے، اور اس تازہ ترین سانحے نے ایک بار پھر کوہ پیماؤں کو درپیش خطرناک حقائق کو اجاگر کر دیا ہے۔ تمام متعلقہ ادارے اور حکومت اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے باہم رابطے میں ہیں اور لاپتہ کوہ پیماؤں کی سلامتی اور جلد بازیابی کے لیے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔