LIVE
Loading Breaking News...

امریکی گورنر کا اے آئی ڈیٹا سینٹرز پر پالیسی میں یو ٹرن

News Image
پنسلوانیا کے گورنر جوش شاپیرو نے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز پر نئی سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ ان کے گزشتہ موقف سے مکمل انحراف اور پالیسی میں بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔
پنسلوانیا کے گورنر جوش شاپیرو نے منگل کے روز مصنوعی ذہانت (AI) کے ڈیٹا سینٹرز پر نئی اور وسیع تر پابندیوں کا اعلان کیا ہے، جس نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ اعلان ان کے اپنے سابقہ موقف کے برعکس ہے جس میں وہ مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے مکمل حمایت اور 'آل اِن' پالیسی کا اظہار کرتے رہے تھے۔ پالیسی میں یہ اچانک تبدیلی اس بات کی عکاس ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات اور عوامی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتی سطح پر حکمت عملیوں میں تیزی سے ردوبدل کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق گورنر کا یہ اقدام تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے اور عوامی رائے کے دباؤ کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ گورنر شاپیرو نے اپنے نئے بیان میں ان خدشات کا اعتراف کیا ہے جو ڈیٹا سینٹرز کے قیام اور ان کے لیے درکار توانائی کی بھاری مقدار کے حوالے سے اٹھائے جا رہے تھے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے لیے قائم کیے جانے والے یہ بڑے مراکز مقامی بجلی کے نظام پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور ماحولیاتی مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔ شاپیرو نے کہا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت ترقی کے نئے راستے کھولتی ہے، لیکن اس کی بے لگام توسیع عوامی مفادات اور مقامی انفراسٹرکچر کے لیے خطرہ نہیں بننی چاہیے۔ ان کا یہ یو ٹرن سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے حیران کن ہے کیونکہ کچھ عرصہ قبل تک وہ اے آئی ٹیکنالوجی کو ریاست کی معاشی ترقی کا کلیدی انجن قرار دیتے تھے۔ اس فیصلے کے بعد اب پنسلوانیا میں ڈیٹا سینٹرز کے لیے سخت ضابطہ اخلاق اور قواعد و ضوابط لاگو ہوں گے۔ ان پابندیوں میں ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے، بجلی کے استعمال کی حد مقرر کرنے اور مقامی برادریوں سے مشاورت کو لازمی قرار دینے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ گورنر آفس کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پابندیاں صرف مصنوعی ذہانت کو محفوظ اور ذمہ دارانہ بنانے کے لیے ہیں تاکہ ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کرتے ہوئے اس کے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ٹیکنالوجی کمپنیاں ان نئی شرائط کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر پاتی ہیں یا ریاست کے اس اقدام سے سرمایہ کاری پر کوئی اثر پڑے گا۔ حزب اختلاف نے اس اقدام پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جہاں کچھ سیاسی رہنما اس پیش رفت کو عوامی مفاد میں قرار دے رہے ہیں، وہیں کچھ کا کہنا ہے کہ شاپیرو نے یہ فیصلہ انتخابی فائدے کے لیے کیا ہے تاکہ ناراض طبقوں کو خوش کیا جا سکے۔ بہرحال، مصنوعی ذہانت پر گورنر کا یہ یو ٹرن اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والے وقتوں میں دنیا بھر کی حکومتیں ٹیکنالوجی پر کنٹرول کے لیے مزید سخت قوانین کی طرف بڑھیں گی۔ پنسلوانیا کا یہ تجربہ اب دیگر امریکی ریاستوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے جو ڈیٹا سینٹرز کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں۔