LIVE
Loading Breaking News...

پرانے زمانے کے آدابِ معاشرت اور آج کا دور

News Image
پرانے زمانے کے آداب معاشرت اور آج کے دور کے طرز زندگی میں واضح فرق دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں پروان چڑھنے والوں کے نزدیک مہمان نوازی اور میزبان کے احترام کے کچھ ایسے اصول ہیں جو آج کے دور میں نئے لگتے ہیں۔
ماضی کی دہائیوں یعنی ساٹھ اور ستر کے دور میں پرورش پانے والی نسل کے نزدیک انسانی رویوں اور میل جول کے کچھ ایسے مسلمہ اصول تھے جنہیں آج کی جدید نسل کافی حد تک فراموش کر چکی ہے۔ جب اس دور کے لوگ کسی تقریب یا ڈنر پر شرکت کرتے ہیں تو ان کے انداز سے ان کی تربیت اور پرانے اقدار کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، ان لوگوں کا یہ پختہ ماننا ہے کہ کسی کے گھر خالی ہاتھ نہیں جانا چاہیے؛ اس لیے وہ اکثر اپنے ساتھ تحفے کے طور پر کوئی روٹی، مٹھائی یا پھل لے جانا لازمی سمجھتے ہیں۔ یہ ان کے لیے ایک اخلاقی فرض ہے جو وہ ہمیشہ سے نبھاتے آئے ہیں۔ اس دور کے لوگوں کے نزدیک دسترخوان پر پیش کردہ کھانے کے بارے میں رائے دینا یا کھانے کی پسند و ناپسند کا اظہار کرنا بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے۔ وہ میزبان کی عزت کرتے ہوئے وہی کچھ کھا لیتے ہیں جو انہیں پیش کیا جاتا ہے، چاہے وہ ان کی پسند کا ہو یا نہ ہو۔ آج کل کے دور میں جہاں کھانے پینے کے انتخاب پر بحث کرنا یا مخصوص ڈائٹ کا مطالبہ کرنا ایک عام بات سمجھی جاتی ہے، وہاں پرانی نسل کا یہ خاموشی سے میزبان کا احترام کرنا ایک حیران کن اور قابلِ ستائش فعل محسوس ہوتا ہے۔ مزید برآں، ساٹھ اور ستر کی دہائی میں موبائل فون اور سوشل میڈیا کی عدم موجودگی کے باعث، جب یہ لوگ کسی محفل میں جاتے ہیں تو مکمل توجہ اپنے میزبان اور دیگر شرکاء کو دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک گفتگو کے دوران فون کا استعمال یا بار بار اسکرین دیکھنا ایک غیر اخلاقی حرکت ہے۔ یہ لوگ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے، ایک دوسرے کے خیالات سننے اور حقیقی روابط قائم کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا یہ سادہ لیکن گہرا طرز عمل آج کی تیز رفتار اور مشینی زندگی میں ایک نایاب خوبی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان آداب کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں گھر میں داخل ہوتے وقت جوتے اتارنا، میزبان کی اجازت کا انتظار کرنا، اور الوداع کہتے وقت میزبان کا شکریہ ادا کرنا شامل ہے۔ اگرچہ وقت کے ساتھ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور جدید دور کے تقاضے مختلف ہیں، لیکن پرانی نسل کے ان آداب کو اگر آج بھی اپنایا جائے تو ہماری سماجی تقریبات میں مزید شائستگی اور باہمی احترام پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کا رویہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اخلاق اور آداب ہی وہ بنیاد ہیں جن پر ایک مہذب معاشرہ قائم رہتا ہے۔