LIVE
Loading Breaking News...

امریکی فوج کی ٹیکنالوجی میں پیشرفت، آرگس (Argus) کا استعمال

News Image
امریکی میرین کور نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے کام کرنے والی جدید ٹیکنالوجی 'آرگس' کے حصول کے لیے ایکریٹ کمپنی کے ساتھ ایک اہم معاہدہ کیا ہے۔ یہ اقدام میدان جنگ میں فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
نیویارک میں قائم معروف کاگنیٹو انفراسٹرکچر کمپنی، ایکریٹ (Accrete) نے اعلان کیا ہے کہ اسے امریکی میرین کور کی جانب سے ایک خصوصی معاہدہ دیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایکریٹ اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی 'آرگس فار کاگنیٹو ایڈوانٹیج' (Argus for Cognitive Advantage) فراہم کرے گی۔ یہ ٹیکنالوجی خود مختار کام کرنے والے نالج انجنز (Knowledge Engines) پر مبنی ہے جو عسکری شعبے میں ڈیٹا کے تجزیے اور فیصلہ سازی کے عمل کو مزید موثر اور تیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ یہ معاہدہ دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی ایک بڑی مثال ہے۔ آرگس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد جنگی حکمت عملیوں میں تیزی لانا اور پیچیدہ معلومات کا فوری تجزیہ کرنا ہے۔ جدید دور میں، جہاں جنگی میدان میں معلومات کی فراوانی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، وہاں آرگس جیسے خودکار نظام عسکری کمانڈروں کو درست اور بروقت معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایکریٹ کی جانب سے تیار کردہ یہ سسٹم انسانی مداخلت کے بغیر ڈیٹا کے بڑے ذخائر کو پروسیس کرنے اور اہم عسکری نکات کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے نہ صرف انسانی غلطیوں کا امکان کم ہوتا ہے بلکہ جوابی کارروائی میں تیزی آتی ہے۔ امریکی میرین کور کا یہ فیصلہ ایک طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں فوج کو جدید ترین ڈیجیٹل ٹولز سے لیس کرنا شامل ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس ٹیکنالوجی کی فراہمی سے میرینز کو غیر معمولی کاگنیٹو برتری حاصل ہوگی، جس سے وہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تیزی سے فیصلہ سازی کر سکیں گے۔ یہ معاہدہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ امریکی دفاعی ادارے اب مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید سافٹ ویئر سلوشنز پر انحصار بڑھا رہے ہیں تاکہ عالمی سطح پر سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تکنیکی طور پر خود کو مستحکم رکھا جا سکے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے نفاذ کے بعد میرین کور کے آپریشنل معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایکریٹ کمپنی کے ماہرین اپنی اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل تحقیق کر رہے ہیں تاکہ اسے مختلف عسکری ضروریات کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ دفاعی ماہرین اسے مستقبل کی جنگوں میں تکنیکی بالادستی حاصل کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں، جہاں اب لڑائی صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معلومات کی رفتار اور درستگی سے لڑی جائے گی۔