LIVE
Loading Breaking News...

مکہ ڈیفنس پیکٹ اور بنگلہ دیش: بھارت کی جانب سے اہم بیان

News Image
بھارت نے بنگلہ دیش کی جانب سے مکہ ڈیفنس پیکٹ میں شامل ہونے کے امکانات پر گہری نظر رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ خطے کی سیکیورٹی صورتحال میں ہونے والی ہر پیش رفت کو بغور دیکھ رہے ہیں۔
بھارت کی وزارت خارجہ نے حال ہی میں بنگلہ دیش کی جانب سے مکہ ڈیفنس پیکٹ (Mecca Defence Pact) میں شمولیت کے امکانات اور اس سے جڑی خبروں پر اہم بیان جاری کیا ہے۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ملک بنگلہ دیش کی جانب سے علاقائی اور بین الاقوامی دفاعی معاہدوں میں شمولیت کے حوالے سے ہونے والی تازہ ترین پیش رفت پر انتہائی قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق خطے میں سیکیورٹی کے بدلتے ہوئے منظرنامے کو سمجھنا اور اس کے اثرات کا جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ بنگلہ دیش کسی دفاعی اتحاد کا حصہ بننے کا خواہشمند ہے، جس سے خطے کی جغرافیائی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنی معمول کی پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور ہر ایسی پیش رفت پر نظر رکھتا ہے جس کا تعلق براہ راست یا بالواسطہ طور پر جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی سے جڑا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر ابھی مزید تفصیلات کا انتظار ہے اور بھارت اپنی خارجہ پالیسی کے مطابق اپنے مفادات کا تحفظ کرنا بخوبی جانتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کا کسی بھی بڑے دفاعی معاہدے میں شامل ہونا نہ صرف خطے کے ممالک کے لیے بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ مکہ ڈیفنس پیکٹ جیسے اتحاد اسلامی ممالک کے مابین دفاعی تعاون کو بڑھانے پر زور دیتے ہیں۔ بھارت کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی پیش رفت پر محتاط ردعمل ظاہر کر رہا ہے جس سے خطے میں توازن طاقت متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بنگلہ دیش کی جانب سے اس معاملے پر سرکاری طور پر کیا موقف اختیار کیا جاتا ہے اور آیا یہ پیش رفت عملی شکل اختیار کرتی ہے یا نہیں۔ بھارت فی الحال اس پورے عمل کو ایک غیر جانبدار مبصر کی حیثیت سے دیکھ رہا ہے اور کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل صورتحال کے ہر پہلو کا بغور جائزہ لینے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ سفارتی حلقے اس پیش رفت کو بنگلہ دیش کی بدلتی ہوئی خارجہ ترجیحات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔