LIVE
Loading Breaking News...

امریکی انتخابات: یو ایس پوسٹل سروس کا میل ان ووٹنگ کے حوالے سے بڑا اقدام

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے میل ان ووٹنگ کے عمل کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عدالتی فیصلوں کے برعکس پوسٹل سروس نے انتخابی عمل میں نئی قدغنیں عائد کر دی ہیں۔
امریکہ میں صدارتی انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، یو ایس پوسٹل سروس (USPS) نے عدالتی فیصلوں اور تنقید کے باوجود ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے (میل ان ووٹنگ) کے عمل پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل میل ان ووٹنگ کے عمل کو محدود کرنے اور اس پر اپنا کنٹرول بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات انتخابی عمل کی شفافیت اور رائے دہندگان کی سہولت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انتخابی عمل میں اثر و رسوخ بڑھانے کے بیانات نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ میل ان ووٹنگ کے ذریعے دھاندلی کا خدشہ ہے، حالانکہ ان کے اس دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔ یو ایس پوسٹل سروس کی جانب سے ان پابندیوں کا نفاذ عدالتی احکامات کے منافی سمجھا جا رہا ہے، جس کے باعث قانونی ماہرین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے اسے ووٹروں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ہے۔ اس صورتحال نے امریکی انتخابی نظام پر اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ وفاقی عدالتوں کی جانب سے دی گئی ہدایات کے باوجود ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے عمل کو سست کرنے یا اسے پیچیدہ بنانے کے اقدامات انتخابی نتائج پر براہ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف انتخابات کے نتائج کے تنازعہ میں اضافہ ہوگا بلکہ امریکی جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ فی الحال، انتخابی کمیشن اور پوسٹل سروس کے مابین کشمکش جاری ہے، اور آنے والے دنوں میں یہ معاملہ دوبارہ عدالتوں کا رخ کر سکتا ہے۔ عوام میں اس حوالے سے شدید بے چینی ہے کہ آیا ان کی رائے، جو ڈاک کے ذریعے بھیجی جا رہی ہے، بروقت گنتی کے لیے پہنچ سکے گی یا نہیں۔ یہ تمام صورتحال امریکہ میں جاری صدارتی انتخابی مہم کو ایک نئے اور متنازعہ موڑ پر لے آئی ہے۔