Technology
زمین کے اندر چھپی قدرتی ہائیڈروجن کا حصول: ایک نئی عالمی دوڑ
عالمی سطح پر قدرتی ہائیڈروجن کے زیر زمین ذخائر تلاش کرنے کے لیے ایک نئی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ امریکی محکمہ توانائی کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کھربوں ٹن ہائیڈروجن کے قدرتی ذخائر موجود ہو سکتے ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلیوں اور روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے عالمی دباؤ کے پیش نظر، اب دنیا بھر کے ممالک توانائی کے نئے اور پائیدار ذرائع کی تلاش میں سرگرم عمل ہیں۔ اس سلسلے میں حال ہی میں 'جیولوجک ہائیڈروجن' یا زمین کے اندر قدرتی طور پر پائے جانے والے ہائیڈروجن کے ذخائر ایک مرکزی موضوع بن کر سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دریافت توانائی کے شعبے میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے، کیونکہ ہائیڈروجن ایک صاف ستھرا ایندھن ہے جو کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ چند برس قبل امریکی محکمہ توانائی کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ نے عالمی توانائی منڈی میں ہلچل مچا دی تھی، جس میں یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ زمین کی تہوں میں کھربوں میٹرک ٹن قدرتی ہائیڈروجن موجود ہو سکتی ہے۔ یہ رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہائیڈروجن صرف لیبارٹریوں میں تیار کرنے والی چیز نہیں بلکہ یہ قدرت کا ایک ایسا تحفہ ہے جو زمین کے اندر بڑی مقدار میں پوشیدہ ہے۔ اس رپورٹ کے بعد سے دنیا کے مختلف حصوں میں ہائیڈروجن کے ہاٹ سپاٹ تلاش کرنے کی ایک نئی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ مختلف ممالک اور نجی کمپنیاں اب ارضیاتی سروے کر رہی ہیں تاکہ ان جگہوں کی نشاندہی کی جا سکے جہاں ہائیڈروجن کا اخراج قدرتی طور پر ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ہائیڈروجن کے یہ ذخائر عام طور پر زیر زمین چٹانوں کے درمیان کیمیائی عمل کے نتیجے میں بنتے ہیں۔ اگر یہ ذخائر تجارتی بنیادوں پر نکالے جا سکیں تو یہ دنیا کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک سستا اور ماحول دوست متبادل ثابت ہوں گے۔ تاہم، اس عمل میں تکنیکی چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ ہائیڈروجن کو تلاش کرنا، نکالنا اور اسے محفوظ طریقے سے ٹرانسپورٹ کرنا موجودہ ٹیکنالوجی کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ اس کے باوجود، بین الاقوامی سرمایہ کار اب اس شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ یہ پیشرفت نہ صرف عالمی معیشت پر اثر انداز ہوگی بلکہ کاربن فری دنیا کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ آنے والے چند سالوں میں ہم دیکھیں گے کہ کون سے ممالک اس 'ہائیڈروجن انقلاب' میں سبقت لے جاتے ہیں۔