Technology
مصنوعی ذہانت کا ایشیائی معیشتوں پر اثرات اور مستقبل
مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ایشیائی معیشتوں کے لیے ترقی کا نیا ذریعہ بن گئی ہے جس سے تائیوان جیسے ممالک کی جی ڈی پی میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ جنوب مشرقی ایشیا کے لیے یہ تیزی صرف ایک مختصر مدت کا واقعہ ثابت ہو سکتی ہے۔
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کا جنون ایشیائی معیشتوں کے لیے ایک نئی امید کی کرن بن کر ابھرا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ایشیا کے کئی ممالک میں معاشی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس کی بڑی وجہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے لیے درکار ہارڈویئر اور چپس کی بڑھتی ہوئی عالمی مانگ ہے۔ تائیوان جیسے ممالک اس رجحان سے سب سے زیادہ مستفید ہو رہے ہیں، جہاں 2010 کے بعد پہلی بار دو ہندسی (ڈبل ڈیجٹ) جی ڈی پی نمو متوقع ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت براہ راست خطے کی معاشی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔
تاہم، ماہرین معاشیات اس ترقی کے دیرپا اثرات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ خصوصاً جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے لیے، یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت سے جڑی معاشی بہتری محض ایک 'مختصر المدتی بلپ' (Short-term blip) ہو سکتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بہت سے ممالک محض ہارڈویئر کی اسمبلنگ یا خام مال کی فراہمی تک محدود ہیں، جبکہ اصل ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر کے شعبوں میں ترقی کے ثمرات ابھی تک ان تک پوری طرح نہیں پہنچ سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایشیائی ممالک نے اس موقع کو اپنے صنعتی ڈھانچے کو جدید بنانے اور اپنی مقامی ٹیکنالوجی کمپنیاں قائم کرنے کے لیے استعمال نہ کیا، تو یہ معاشی لہر جلد ہی ماند پڑ سکتی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ہارڈویئر کی مانگ میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ، سپلائی چین کے مسائل بھی معیشتوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ لہذا، صرف اے آئی ہارڈویئر کی برآمدات پر انحصار کرنا خطے کی پائیدار ترقی کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
مستقبل کے حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایشیا کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اے آئی انقلاب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی معیشتوں کو کس طرح تنوع (Diversification) فراہم کرتا ہے۔ اگر جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک اپنی لیبر مارکیٹ اور تکنیکی مہارتوں میں سرمایہ کاری کریں، تو ہی وہ اس عالمی تبدیلی سے طویل مدتی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ ورنہ، ٹیکنالوجی کی یہ لہر صرف ایک عارضی معاشی تیزی تک محدود رہ جائے گی، جس کے بعد خطے کو دوبارہ اسی پرانی سست روی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔