LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا مذاکرات پر زور اور بیس کیمپ کی سوچ بدلنے کا مطالبہ

News Image
آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم نے موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لیے فوری اور سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ روایتی بیس کیمپ والی ذہنیت کو یکسر تبدیل کیا جائے۔
آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم نے خطے میں جاری سیاسی کشیدگی اور بحران کو حل کرنے کے لیے تمام فریقین کے درمیان فوری اور جامع مذاکرات پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ ملکی اور علاقائی صورتحال میں بات چیت کے دروازے بند کرنا کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، اس لیے تمام مسائل کو سیاسی بصیرت اور افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ آزاد کشمیر کے سیاسی و انتظامی نظام میں اب پرانی اور فرسودہ سوچ کو ترک کرنے کی اشد ضرورت ہے، خاص طور پر ہمیں اب 'بیس کیمپ' کی روایتی ذہنیت سے باہر نکل کر عملی اور تعمیری اقدامات کی طرف قدم بڑھانا ہوگا۔ وزیراعظم نے اپنی گفتگو میں حالیہ انتخابات کے دوران پیش آنے والے امور پر بھی بات کی اور الزام لگایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو حالیہ انتخابی عمل میں مبینہ طور پر ایک سطح کا میدانِ عمل یعنی لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم نہیں کی گئی۔ ان کا مؤقف تھا کہ جمہوری روایات کو زندہ رکھنے اور جمہوریت کو جڑ پکڑنے دینے کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب آزادانہ مرضی سے کر سکیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، وزیرِ اعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کو مختلف قسم کے معاشی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں حکومت اور اپوزیشن دونوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر آزاد کشمیر کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ اگر وقت رہتے سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے سیاسی اختلافات کو دور نہ کیا گیا تو اس سے انتظامی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے، جس سے عام آدمی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔