LIVE
Loading Breaking News...

اینڈی مرے کی ٹینس سے دوری: سابق عالمی نمبر ون کا بڑا اعتراف

News Image
برطانوی ٹینس لیجنڈ اینڈی مرے نے اعتراف کیا ہے کہ کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں ٹینس کی کمی محسوس نہیں ہو رہی۔ دو مرتبہ اولمپک گولڈ میڈل جیتنے والے کھلاڑی نے اپنی نئی زندگی کے معمولات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
ٹینس کی تاریخ کے عظیم کھلاڑیوں میں شمار کیے جانے والے برطانوی اسٹار اینڈی مرے نے اپنے حالیہ انٹرویو میں ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے ٹینس شائقین کو حیران کر دیا ہے۔ مرے نے واضح طور پر کہا ہے کہ ٹینس سے باضابطہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں اس کھیل کی یاد نہیں آ رہی۔ اپنے کیریئر کے دوران رافیل نڈال، راجر فیڈرر اور نوواک جوکووچ جیسے کھلاڑیوں کے ساتھ سخت مقابلے کرنے والے مرے نے اپنی زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے اور وہ اب کھیل کے میدان سے دور اپنے ذاتی وقت کو انجوائے کر رہے ہیں۔ اینڈی مرے، جو کبھی عالمی نمبر ون رہ چکے ہیں اور تین گرینڈ سلیم ٹائٹلز جیتنے کا اعزاز رکھتے ہیں، کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ ٹینس کی زندگی انتہائی دباؤ والی ہوتی ہے جس میں مسلسل سفر اور ٹورنامنٹس کی تھکاوٹ شامل ہوتی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اب وہ پرسکون ہیں اور انہیں کورٹ پر واپسی کی کوئی تڑپ محسوس نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق، اب ان کے پاس اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزارنے کے لیے وافر وقت موجود ہے جو کہ ان کے لیے ٹینس کی ٹرافیاں جیتنے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ مرے کا کیریئر انجریز سے بھی متاثر رہا، جس نے ان کی کارکردگی کو کافی حد تک محدود کر دیا تھا۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب ٹینس کھیلنے کے بجائے دیگر مشاغل کو وقت دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اگرچہ ٹینس ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ رہا ہے، لیکن ایک طویل عرصے تک کھیل کے میدان میں رہنے کے بعد اب ان کی ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں۔ ان کے اس بیان کو ٹینس مبصرین کھیل سے ایک طویل اور کامیاب وابستگی کے بعد ذہنی سکون کی تلاش سے تعبیر کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اینڈی مرے اولمپک گیمز میں دو مرتبہ گولڈ میڈل جیتنے والے واحد مرد سنگلز کھلاڑی ہیں، جس سے ان کی تاریخ میں اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ٹینس کی دنیا میں ایک دور کا خاتمہ ہوا ہے، تاہم ان کا یہ بیان کہ انہیں کھیل کی کمی محسوس نہیں ہوتی، ان کے مداحوں کے لیے ایک دلچسپ مگر حقیقت پسندانہ انکشاف ہے۔