LIVE
Loading Breaking News...

نوکیا اسمارٹ فونز کا سفر اختتام کے قریب، سافٹ ویئر سپورٹ ختم

News Image
موبائل فون کی دنیا میں ایک اہم نام نوکیا اب اسمارٹ فونز کے میدان سے مکمل طور پر رخصت ہو رہا ہے۔ کمپنی اپنے آخری دو اسمارٹ فونز کے لیے سافٹ ویئر اپڈیٹس اور سپورٹ ختم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
موبائل فون کی صنعت میں ایک عظیم الشان تاریخ رکھنے والا نام 'نوکیا' اب اسمارٹ فونز کی مارکیٹ سے مکمل طور پر رخصت ہونے کے قریب ہے۔ ایک وقت تھا جب نوکیا دنیا بھر میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے موبائل فونز کا برانڈ تھا، لیکن اب خبر سامنے آئی ہے کہ کمپنی اپنے آخری دو اسمارٹ فون ماڈلز کے لیے بھی سافٹ ویئر سپورٹ ختم کرنے جا رہی ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی نوکیا کی اسمارٹ فونز کے میدان میں موجودگی کا ایک باب مکمل طور پر بند ہو جائے گا۔ ٹیکنالوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد کمپنی کی حکمت عملی میں تبدیلی اور مارکیٹ کے بدلتے رجحانات سے ہم آہنگ ہونا ہے۔ اگرچہ نوکیا کے فیچر فونز بدستور مارکیٹ میں دیکھے جا سکتے ہیں، لیکن جدید اسمارٹ فون کی دوڑ میں نوکیا کے برانڈ نام کی حیثیت اب کافی بدل چکی ہے۔ یہ فیصلہ ان صارفین کے لیے خاص طور پر اہم ہے جو اب بھی نوکیا کے ان آخری ڈیوائسز کو استعمال کر رہے ہیں۔ سافٹ ویئر سپورٹ ختم ہونے کا مطلب ہے کہ ان ڈیوائسز کو مستقبل میں سیکیورٹی پیچز یا آپریٹنگ سسٹم کی نئی اپڈیٹس موصول نہیں ہوں گی، جس سے سیکیورٹی کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ نوکیا کے اسمارٹ فونز کا سفر ایک طویل عرصے پر محیط رہا، جس میں اینڈرائیڈ کے ساتھ شراکت داری سے لے کر ونڈوز فون تک کے تجربات شامل تھے۔ تاہم، بدلتی ہوئی مارکیٹ اور سخت مقابلہ بازی کے باعث نوکیا اپنی کھوئی ہوئی پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ کمپنی کے اس فیصلے کے بعد اب نوکیا کا برانڈ نام ممکنہ طور پر صرف پرانے دور کی یادگار یا چند مخصوص فیچر فونز تک محدود رہ جائے گا۔ ٹیکنالوجی کے شوقین افراد کے لیے یہ خبر ایک دور کے اختتام جیسی ہے، کیونکہ نوکیا وہ برانڈ تھا جس نے موبائل فون کو عام آدمی کی پہنچ تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اب صارفین کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ نوکیا کے ان آخری اسمارٹ فونز کا استعمال جاری رکھتے ہیں تو انہیں ڈیٹا سیکیورٹی کے حوالے سے محتاط رہنا ہوگا کیونکہ سافٹ ویئر اپڈیٹس کی عدم دستیابی ڈیوائس کو سائبر حملوں کے لیے غیر محفوظ بنا سکتی ہے۔ نوکیا کی جانب سے اس حتمی فیصلے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں وقت کے ساتھ خود کو تبدیل نہ کرنا کتنا مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔