LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان ملائیشیا سیکیورٹی تعاون: منشیات اور دہشت گردی کے خلاف نئی حکمت عملی

News Image
پاکستان اور ملائیشیا نے دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ملائیشین وزیر داخلہ کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک نے سیکیورٹی اور ڈیجیٹل گورننس کے شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستان اور ملائیشیا نے دو طرفہ سیکیورٹی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس کا مرکزی نقطہ انٹیلی جنس معلومات کا اشتراک اور سرحد پار منشیات کی سمگلنگ کے نیٹ ورک کا خاتمہ ہے۔ ملائیشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین ناتھن کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی استحکام کے لیے دہشت گردی اور منشیات کے خلاف مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ اس دورے کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان سیکیورٹی کے شعبے میں جاری تعاون کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان ملائیشیا کے ساتھ تجارتی اور سیکیورٹی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے خواہاں ہیں۔ صدر پاکستان نے بھی ملاقاتوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان روابط کو بہتر بنانے پر زور دیا تاکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف موثر کارروائی کی جا سکے۔ ملائیشیا کے وزیر داخلہ نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دی گئی قربانیوں اور سیکیورٹی اقدامات کو سراہا۔ اپنے دورے کے دوران سیف الدین ناتھن نے نادرا ہیڈ کوارٹرز کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستان کے ڈیجیٹل شناختی نظام کی تعریف کی۔ ملائیشین وفد نے پاکستان کے جدید ڈیٹا مینجمنٹ اور شناختی نظام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نظام دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مثال ہے۔ انہوں نے نادرا کی ٹیکنالوجی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں کو سراہا اور اسے سیکیورٹی اور گڈ گورننس کے لیے اہم قرار دیا۔ آخر میں دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے معلومات کا بروقت تبادلہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور ملائیشیا اس عزم کے ساتھ اپنے تعلقات کو آگے بڑھا رہے ہیں کہ مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے دونوں ملک ہر فورم پر ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ اس تعاون سے نہ صرف سرحدی جرائم میں کمی آئے گی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور سیکیورٹی اعتماد میں بھی اضافہ متوقع ہے۔