World
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب دفاعی اتحاد پر بھارتی وزیر خارجہ کا بیان
بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان مبینہ دفاعی معاہدے کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اس اتحاد نے عملی طور پر کیا نتائج حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے ان ممالک میں جاری فوجی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے اس دفاعی محور کی افادیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ دفاعی معاہدے یا سہ فریقی اتحاد کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ انہوں نے ایک حالیہ بیان میں اس اتحاد کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جن ممالک نے یہ دفاعی اتحاد قائم کرنے کی بات کی ہے، وہاں خود جاری عسکری اور سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اس معاہدے نے اب تک کیا عملی کردار ادا کیا ہے؟ ان کا اشارہ ان ممالک کی داخلی اور علاقائی فوجی مصروفیات کی جانب تھا، جہاں بظاہر اس اتحاد کا کوئی نمایاں اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔
ماہرین خارجہ امور کا ماننا ہے کہ اسلام آباد، ریاض اور انقرہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے کی سیاست میں ایک نیا زاویہ پیدا کرنے کی کوشش ہے، جس کا مقصد ممکنہ طور پر اپنے اپنے سکیورٹی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ تاہم، بھارتی قیادت نے ہمیشہ اس طرح کے اتحادوں کو اپنی سلامتی اور علاقائی توازن کے تناظر میں بغور دیکھا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ نے اس موقع پر یہ واضح کیا کہ ایسے معاہدے صرف کاغذی سطح پر یا سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہنے چاہئیں، بلکہ اگر ان کا مقصد علاقائی استحکام ہے تو اس کے نتائج زمینی سطح پر بھی نظر آنے چاہئیں۔
دوسری جانب، پاکستان اور ترکی کے قریبی دفاعی روابط اور سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو خطے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، کچھ دیگر ممالک بشمول بنگلہ دیش نے بھی اس قسم کے اتحاد میں شمولیت کے حوالے سے دلچسپی ظاہر کی ہے، جس سے اس محور کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، بھارتی وزیر خارجہ کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نئی دہلی اس اتحاد کو خطے کے لیے کوئی فوری یا بڑا خطرہ نہیں سمجھتی، بلکہ اسے محض ایک سفارتی جوڑ توڑ تک محدود سمجھتی ہے۔
مستقبل میں یہ اتحاد کیا شکل اختیار کرتا ہے اور کیا واقعی یہ ممالک کسی مشترکہ دفاعی ڈھانچے پر متفق ہو پائیں گے، یہ ایک بڑا سوال ہے۔ فی الحال، بھارتی قیادت کا مؤقف یہی ہے کہ ایسے اتحادوں کی کامیابی کا دارومدار ان کے عملی نتائج پر ہے، نہ کہ محض اعلانات پر۔ عالمی سیاست کے مبصرین اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے سکیورٹی منظرنامے کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جہاں اب ہر ملک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئے حلیف تلاش کرنے میں مصروف ہے۔