LIVE
Loading Breaking News...

ایران کی پڑوسی ممالک کو سخت انتباہ، کشیدگی میں اضافے کا خدشہ

News Image
ایرانی سیکیورٹی حکام نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے امریکہ کے معاشی اقدامات میں تعاون کیا تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے۔ تہران کا ماننا ہے کہ خطے میں بڑھتا ہوا امریکی دباؤ تہران کے خلاف سازش کا حصہ ہے۔
ایران کے سیکیورٹی حکام نے خطے کے ممالک کو ایک سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے امریکہ کی جانب سے تہران پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ میں کسی بھی قسم کا تعاون کیا تو انہیں 'زلزلہ نما' ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایرانی سیکیورٹی چیف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن کی جانب سے ایران پر پابندیوں کا سلسلہ مزید تیز کر دیا گیا ہے اور خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ تہران کی جانب سے یہ پیغام خاص طور پر ان پڑوسی ممالک کے لیے ہے جو امریکی حمایت یافتہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں یا جن کی جانب سے ایران مخالف معاشی سرگرمیوں میں مبینہ سہولت کاری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں مشرق وسطیٰ کے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ بیان درحقیقت اس بڑھتی ہوئی تنہائی اور دباؤ کا نتیجہ ہے جو امریکی پابندیوں کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ دوسری جانب، آبنائے ہرمز کے قریب بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت اور کشیدگی نے بھی خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو انتہائی غیر مستحکم کر دیا ہے۔ ایران کا واضح مؤقف ہے کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے تہران کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، نہ کہ بیرونی قوتوں کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔ دریں اثنا، مشرق وسطیٰ میں دیگر اہم پیش رفت بھی دیکھنے میں آ رہی ہیں جہاں اسرائیل نے شام میں فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جسے عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔ ان تمام واقعات نے خطے میں ایک نئی جنگی کیفیت کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر پڑوسی ممالک نے ایران کے اس انتباہ کو نظر انداز کیا تو خلیج کے خطے میں معاشی اور سیکیورٹی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہے، خواہ اس کا اثر خطے کے دیگر ممالک پر ہی کیوں نہ پڑے۔