LIVE
Loading Breaking News...

پیٹرولیم ڈیلرز کا مارجن بڑھا، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی

News Image
حکومت نے پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں 15.5 فیصد اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد فی لیٹر منافع 9.98 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں قیمتوں کے تعین کے نئے فارمولے کے تحت ڈیزل کی قیمتوں میں بھی بڑی کمی دیکھی جا رہی ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ڈیلرز کے مارجن سے متعلق اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں 15.5 فیصد کا نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ڈیلرز کا فی لیٹر منافع 8.64 روپے سے بڑھ کر 9.98 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حکومت ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کر رہی ہے۔ حالیہ حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 3.81 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3.59 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ تاہم، پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے طویل عرصے سے اپنے مارجن میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، کیونکہ گزشتہ کچھ عرصے سے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث کاروبار کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنما ملک کا کہنا ہے کہ ڈیلرز مزید ٹیکسوں اور اخراجات کا بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے، اس لیے اس اضافے کو ناگزیر سمجھا گیا۔ دوسری جانب، ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے بھی بڑی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ حکومتی سطح پر ریفائنریز کے ساتھ مذاکرات اور قیمتوں کے تعین کے ایک نئے فارمولے کے تحت ڈیزل کی قیمتوں میں 32 روپے سے زائد کی کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس فارمولے کا مقصد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے اثرات کو مقامی سطح پر منصفانہ طریقے سے منتقل کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اس حکمت عملی کے ذریعے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں جاری بحران کو بھی حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ تبدیلیاں جہاں عوام کے لیے مخلوط جذبات کا باعث ہیں، وہیں کاروباری حلقے بھی ان فیصلوں کے ملکی معیشت پر اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ نئے فارمولے سے قیمتوں کے تعین میں شفافیت آئے گی اور مصنوعی مہنگائی کی روک تھام ممکن ہو سکے گی۔ آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں کا رجحان مقامی منڈی میں قیمتوں کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، جس سے عام آدمی کے بجٹ پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔