LIVE
Loading Breaking News...

امریکی فوجی اخبار کے ایڈیٹر کی برطرفی اور سنسرشپ کا تنازعہ

News Image
امریکی فوجی اخبار کے ایڈیٹر ایرک سلیون کو اس وقت ملازمت سے برطرف کر دیا گیا جب انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران سنسرشپ کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارتی آزادی پر قدغن کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔
امریکی فوجی اخبار 'اسٹارز اینڈ سٹرائپس' کے ایڈیٹر ایرک سلیون کی اچانک برطرفی نے امریکی میڈیا اور فوجی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایرک سلیون کا ماننا ہے کہ انہیں اس لیے ملازمت سے نکالا گیا کیونکہ انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران یہ رائے دی تھی کہ کسی بھی ادارتی عمل میں سنسرشپ ایک ایسی 'ریڈ لائن' ہے جسے عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا موقف ہے کہ ایک آزاد پریس کا کام حقائق کو سامنے لانا ہے، نہ کہ حکومتی یا فوجی دباؤ کے تحت خبروں کو تبدیل کرنا۔ اس واقعے کے بعد صحافتی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایرک سلیون، جو طویل عرصے سے فوجی خبروں کی کوریج سے وابستہ رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کے تبصرے کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور انہیں انتظامیہ کی جانب سے ایک انتباہ کے طور پر دیکھا گیا حالانکہ انہوں نے صرف ایک فرضی صورتحال کے تناظر میں اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ صحافتی آزادی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ اداریہ سازی میں شفافیت کو برقرار رکھا جائے۔ دوسری جانب فوجی انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ واقعہ امریکی فوج اور آزاد صحافت کے درمیان تناؤ کی ایک کڑی ہو سکتا ہے۔ ایرک سلیون کی برطرفی سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکی فوجی اخبارات کو پوری طرح سے آزاد کام کرنے کی اجازت ہے یا ان پر بھی بالواسطہ دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اس معاملے پر امریکی کانگریس کے کچھ ارکان نے بھی وضاحت طلب کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ صحافتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے میڈیا اداروں میں خود سنسرشپ کا رجحان بڑھ سکتا ہے، جو جمہوریت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ایرک سلیون کا یہ کیس اب ایک ٹیسٹ کیس بن چکا ہے کہ آیا ایک فوجی ادارے کے اندر کام کرنے والے صحافی کے پاس کتنی آزادی اظہار کی گنجائش موجود ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید انکشافات سامنے آئیں گے اور آزادی صحافت کے علمبردار اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کریں گے۔