LIVE
Loading Breaking News...

شام کا دمشق کے قریب اسرائیلی حملے پر شدید ردعمل اور مذمت

News Image
شامی وزارت خارجہ نے دمشق کے قریب ہونے والے تازہ ترین اسرائیلی فضائی حملے کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
شامی حکومت نے دمشق کے مضافات میں ہونے والے حالیہ اسرائیلی فضائی حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی یہ جارحیت خطے میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا دینے کے مترادف ہے، جس سے نہ صرف شہری آبادی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں بلکہ امن و امان کی صورتحال بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ شامی وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی ان غیر قانونی کارروائیوں کا فوری نوٹس لے۔ یہ تازہ ترین واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل ہی یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ اسرائیل نے ترکی کی سرحد کے قریب ایک اہم فوجی ایئربیس کو نشانہ بنایا ہے۔ خطے میں بڑھتے ہوئے ان فضائی حملوں نے سکیورٹی کے امور کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے شام میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانا دراصل تزویراتی مقاصد کے حصول کے لیے کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں شام کی پہلے سے کمزور معیشت اور سکیورٹی ڈھانچے پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ شام کے فوجی حکام کا مزید کہنا ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے کچھ اسرائیلی میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا تھا، تاہم حملے کے نتیجے میں ہونے والے مادی نقصانات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے تاحال ان حملوں پر کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، جیسا کہ عام طور پر وہ اپنی کارروائیوں پر خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ تاہم، علاقائی مبصرین اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ میں ایک نئے محاذ کے کھلنے کے خدشات سے تعبیر کر رہے ہیں۔ خطے کے موجودہ حالات میں اس طرح کے حملے عام شہریوں کے لیے خوف و ہراس کا باعث بن رہے ہیں، جبکہ سفارتی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے بارہا خطے کے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور مسائل کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ تاہم، زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تناؤ میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ مستقبل میں مزید بڑے تنازعات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔