LIVE
Loading Breaking News...

جیسن کیلسی کا اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے خلاف منفرد احتجاج

News Image
سابق این ایف ایل اسٹار جیسن کیلسی نے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے بڑھتے ہوئے اثرات کے خلاف باتھ روم ہیومر کے ذریعے ایک منفرد احتجاجی مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کا مقصد ماحولیاتی مسائل اور توانائی کے استعمال پر عوامی توجہ مبذول کروانا ہے۔
امریکی فٹ بال لیگ این ایف ایل کے سابق کھلاڑی اور مقبول شخصیت جیسن کیلسی نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے خلاف ایک غیر روایتی اور منفرد مہم کا آغاز کیا ہے۔ جیسن کیلسی، جو کہ 'گار' (Gar) نامی کمپنی کے شریک مالک بھی ہیں، نے اپنی مارکیٹنگ حکمت عملی میں باتھ روم ہیومر یعنی مزاحیہ انداز کا سہارا لیا ہے تاکہ دنیا بھر میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ اور ان سے جڑے ماحولیاتی خدشات کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی توانائی کی کھپت اور پانی کے بے دریغ استعمال پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ماڈلز کی تربیت اور ان کے آپریشنز کے لیے بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت ہوتی ہے، جو بجلی کی بھاری مقدار استعمال کرتے ہیں اور ساتھ ہی بڑی مقدار میں پانی بھی ضائع کرتے ہیں۔ جیسن کیلسی کی جانب سے اس مسئلے کو مزاحیہ انداز میں پیش کرنا دراصل ان بڑے کارپوریٹ اداروں کی پالیسیوں پر طنز ہے جو ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ماحولیاتی اثرات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ اس مہم کے ذریعے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی چمک دمک کے پیچھے ایک تاریک حقیقت موجود ہے جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ جیسن کیلسی کی یہ مہم نہ صرف سماجی حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے بلکہ یہ مارکیٹنگ کے نئے طریقوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے جہاں سنگین مسائل کو ہلکے پھلکے اور یادگار انداز میں پیش کر کے لوگوں کی توجہ حاصل کی جا رہی ہے۔ اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی مزاحمت میں اس طرح کے اقدامات اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ یہ عام آدمی کو ان پیچیدہ تکنیکی مسائل کے بارے میں آسان زبان اور مزاحیہ پیرائے میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس مہم کے بعد ڈیٹا سینٹرز کے ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے ہونے والی بحث میں شدت آئے گی۔ جیسن کیلسی کی یہ حکمت عملی ثابت کرتی ہے کہ اگر کسی بڑے مقصد کے لیے جدید مواصلاتی انداز اپنایا جائے تو عوامی بیداری پیدا کرنا کہیں زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ٹیکنالوجی کمپنیاں ان خدشات پر کوئی سنجیدہ ردعمل دیتی ہیں یا پھر ڈیٹا سینٹرز کے حوالے سے یہ احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کرتی ہے۔