LIVE
Loading Breaking News...

آرٹیفیشل انٹیلیجنس سٹارٹ اپ رلیٹ: اکاؤنٹنگ کی دنیا کا نیا یونیکورن

News Image
امریکی سٹارٹ اپ رلیٹ نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے اکاؤنٹنگ کے شعبے میں انقلاب برپا کرتے ہوئے ایک ارب ڈالر کی ویلیو ایشن حاصل کر لی ہے۔ کمپنی نے محض 48 گھنٹوں کے قلیل وقت میں 100 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرکے 'یونیکورن' کا درجہ پا لیا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے شعبے میں ترقی کی رفتار روز بروز تیز ہوتی جا رہی ہے اور اب اکاؤنٹنگ کے پیچیدہ امور کو سنبھالنے والے سٹارٹ اپ 'رلیٹ' (Rillet) نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ کمپنی کے شریک بانی اور سی ای او نکولس کوپ نے حال ہی میں تصدیق کی ہے کہ ان کی کمپنی نے صرف 48 گھنٹوں کے مختصر دورانیے میں 100 ملین ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے، جس کے بعد کمپنی کی کل مالیت ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور اسے ٹیکنالوجی کی دنیا میں 'یونیکورن' کا درجہ مل گیا ہے۔ امریکہ میں اکاؤنٹنٹس کی بڑھتی ہوئی قلت اور روایتی اکاؤنٹنگ طریقوں میں درپیش مسائل کو دیکھتے ہوئے، رلیٹ نے ایک جدید اے آئی پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے۔ یہ پلیٹ فارم مالیاتی اعداد و شمار کو خودکار طریقے سے منظم کرنے، ٹیکس گوشواروں کی تیاری اور کاروباری مالیاتی تجزیات میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ کمپنی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سرمایہ کاروں نے اس پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اتنی قلیل مدت میں اتنی بھاری رقم کی فراہمی تکنیکی دنیا میں ایک بڑی خبر بن گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ رلیٹ کا ماڈل ان کمپنیوں کے لیے انتہائی مفید ہے جنہیں مالیاتی شفافیت اور درستگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ نکولس کوپ کے مطابق، یہ سرمایہ کاری کمپنی کو اپنی سروسز کو مزید بہتر بنانے اور بین الاقوامی سطح پر اپنے نیٹ ورک کو وسعت دینے میں مدد فراہم کرے گی۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرتے ہوئے انسانی غلطیوں کو کم کرنے اور وقت کی بچت کرنے کے اس تصور کو کاروباری حلقوں میں کافی سراہا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں مزید اسی طرح کے سٹارٹ اپس کے لیے راہ ہموار ہو رہی ہے۔ رلیٹ کی یہ کامیابی اس بات کی عکاس ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کو صحیح سمت میں استعمال کیا جائے تو کسی بھی روایتی شعبے میں نمایاں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ کمپنی اب اپنی ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بھی اس جدید نظام سے مستفید کیا جا سکے۔ 100 ملین ڈالر کی یہ فنڈنگ بلاشبہ اکاؤنٹنگ کے مستقبل کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی، کیونکہ اب کاروبار اپنی مالیاتی رپورٹنگ کے لیے اے آئی پر زیادہ انحصار کرنا شروع کر چکے ہیں۔