Technology
چین کی ونڈوز کو خیرباد کہنے کی حکمت عملی اور لینکس کا استعمال
چین کی جانب سے سرکاری اداروں میں ونڈوز 10 کے استعمال کو ختم کرکے مقامی سطح پر تیار کردہ لینکس ڈسٹری بیوشنز کو اپنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اقدام قومی سلامتی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود انحصاری حاصل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
گلوبل ٹیکنالوجی مارکیٹ میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر چین نے باضابطہ طور پر اپنے سرکاری اداروں میں مائیکروسافٹ ونڈوز کے استعمال کو محدود کرنے اور اسے مقامی لینکس پر مبنی آپریٹنگ سسٹمز سے بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بلومبرگ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق چین کی وزارت برائے ریاستی سلامتی نے حکومتی ایجنسیوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ 'ونڈوز 10 چائنا گورنمنٹ ایڈیشن' کو ترک کر کے چینی ساختہ لینکس ڈسٹری بیوشنز کو اپنائیں۔ یہ فیصلہ ایک طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد مغربی سافٹ ویئر پر انحصار ختم کرنا اور ملکی ٹیکنالوجی کو خود کفیل بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق چین کی جانب سے ونڈوز 11 کو نظر انداز کرنے اور لینکس کو ترجیح دینے کی بنیادی وجہ سائبر سکیورٹی اور ڈیٹا کی پرائیویسی سے متعلق تحفظات ہیں۔ چین طویل عرصے سے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے کہ غیر ملکی آپریٹنگ سسٹمز میں ایسے 'بیک ڈورز' ہو سکتے ہیں جن کے ذریعے حساس سرکاری معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ونڈوز کے برعکس لینکس ایک اوپن سورس سسٹم ہے، جس کا مطلب ہے کہ چینی حکام کوڈ کا مکمل معائنہ کر سکتے ہیں اور اپنی ضرورت کے مطابق سکیورٹی فیچرز شامل کر سکتے ہیں، جس سے بیرونی مداخلت کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
یورپی ممالک بھی اسی طرح کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں جہاں مختلف سرکاری دفاتر اور میونسپلٹیز اوپن سورس سافٹ ویئر کی جانب منتقل ہو رہی ہیں۔ تاہم چین کا یہ اقدام اس لیے زیادہ اہم ہے کیونکہ یہ براہ راست مرکزی حکومت کے زیر انتظام اداروں سے شروع کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی سے عالمی سافٹ ویئر مارکیٹ پر مائیکروسافٹ کی اجارہ داری کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ چینی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے ایک نئی مارکیٹ کھل سکتی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے برسوں میں چین اپنے تعلیمی اداروں اور نجی شعبے میں بھی اسی طرح کے مقامی سافٹ ویئر متعارف کرائے گا۔
مزید برآں یہ قدم چین کی 'ٹیک خود انحصاری' کی مہم کا ایک بڑا حصہ ہے۔ امریکہ اور چین کے مابین جاری تکنیکی کشیدگی کے تناظر میں، بیجنگ یہ سمجھتا ہے کہ اپنی بنیادی ٹیکنالوجی کے لیے دوسروں پر انحصار کرنا قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اگرچہ ونڈوز سے لینکس کی منتقلی کے دوران ملازمین کو کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن حکومت کا ماننا ہے کہ طویل مدت میں یہ تبدیلی نہ صرف سکیورٹی میں بہتری لائے گی بلکہ ملکی سافٹ ویئر انڈسٹری کو بھی عالمی معیار تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔