LIVE
Loading Breaking News...

ایلسیویئر پبلشنگ ہاؤس کے خلاف ایک ارب ڈالر کا قانونی مقدمہ شروع

News Image
مشہور اشاعتی ادارے ایلسیویئر کے خلاف ایک ارب ڈالر کا ہتک عزت کا مقدمہ ٹرائل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ مدعیان کا الزام ہے کہ کمپنی نے ماہرین کی تنبیہ کے باوجود ایک متنازع اور ہیرا پھیری شدہ تحقیق کو شائع کیا۔
مشہور عالمی اشاعتی ادارے 'ایلسیویئر' (Elsevier) کے خلاف ایک ارب ڈالر کا ہتک عزت کا مقدمہ اب باضابطہ ٹرائل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ مقدمہ ایک ایسی سائنسی تحقیق کی اشاعت کے گرد گھومتا ہے جس کے بارے میں مدعیان کا موقف ہے کہ اسے تکنیکی ہیرا پھیری کے ذریعے تیار کیا گیا تھا اور اس میں ایئر پیوریفائنگ ٹیکنالوجی کے حوالے سے غلط دعوے کیے گئے تھے۔ اس معاملے نے سائنسی اشاعتی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا بڑے پبلشرز اپنے تحقیقی مقالوں کے معیار کو جانچنے کے لیے کتنے محتاط ہیں۔ مقدمے کے مطابق، اس تحقیق کو اشاعت سے قبل ہم عصر ماہرین (peer reviewers) کی جانب سے شدید تنقید اور اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم، تمام تر تنبیہات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایلسیویئر نے اسے اپنے جریدے میں شائع کر دیا، جس پر اب کمپنی کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس سائنسی اشاعت کے شعبے میں شفافیت اور ذمہ داری کے تعین کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں شامل رقم اور کمپنی کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اب تک کی عدالتی کارروائیوں میں ایلسیویئر کے اخراجات کافی بڑھ چکے ہیں، اور ٹرائل کی تاریخ کا تعین اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدالتیں اب اس معاملے کو گہرائی سے جانچنے کے لیے تیار ہیں۔ مدعیان کا استدلال ہے کہ غلط سائنسی معلومات کی تشہیر سے نہ صرف عوامی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں بلکہ اس طرح کے اقدامات سائنسی تحقیق پر عوام کے اعتماد کو بھی مجروح کرتے ہیں۔ جیسے جیسے ٹرائل کی تاریخ قریب آ رہی ہے، دنیا بھر کی نظریں اس فیصلے پر مرکوز ہیں جو ممکنہ طور پر سائنسی جرائد کے لیے 'پیئر ریویو' کے عمل کو مزید سخت اور شفاف بنانے پر مجبور کر سکتا ہے۔