LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

News Image
امریکہ اور ایران کے مابین مفاہمت کی مدت ختم ہونے کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سپلائی میں ممکنہ خلل کے خدشات اور کم ذخائر کے باعث تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے ہفتے تیزی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کی میعاد کا ختم ہونا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں خلل پڑنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں برینٹ آئل کی قیمتیں 94 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں، جو گزشتہ چار ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک تشویشناک صورتحال ہے کیونکہ خطے میں تناؤ کے براہ راست اثرات توانائی کے بحران کی صورت میں نکل سکتے ہیں۔ مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کے اکتوبر کے معاہدوں میں بھی 0.3 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 87.06 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ اسی طرح برینٹ کروڈ آئل میں 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ قیمت 94.59 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران پر نئی پابندیوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹیں ان قیمتوں میں اضافے کا اہم محرک ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کے ذخائر کی کمی پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ تھی، اور اب جغرافیائی سیاسی صورتحال نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ آئی این جی (ING) جیسی مالیاتی کمپنیوں کے ماہرین کا خیال ہے کہ تیل کی قیمتوں میں یہ تیزی آنے والے دنوں میں بھی جاری رہ سکتی ہے اگر امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی محاذ پر معاملات حل نہ ہوئے۔ توانائی کے شعبے میں کام کرنے والے سرمایہ کار اب محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں کیونکہ عالمی سپلائی چین میں کسی بھی قسم کا خلل عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں یہ مسلسل دوسرا ہفتہ ہے کہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو کہ عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی بے چینی کا عکاس ہے۔ آنے والے وقت میں اوپیک (OPEC) اور دیگر بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے اقدامات پر بھی سب کی نظریں مرکوز ہوں گی، کیونکہ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے اب سخت فیصلوں کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔