LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کے خلاف پڑوسی ممالک کو انتباہ

News Image
ایران نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی دباؤ میں آکر ایران کے خلاف اقتصادی محاذ آرائی کا حصہ نہ بنیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جاری معاشی پابندیاں خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
ایران کی جانب سے خطے کے پڑوسی ممالک کو سخت الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی 'اقتصادی جنگ' کا حصہ نہ بنیں۔ تہران کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے اور اس کی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کر رکھا ہے۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ امریکہ کی ان کوششوں کا مقصد نہ صرف ایران کی حکومت کو غیر مستحکم کرنا ہے بلکہ پورے خطے میں ایک نیا بحران پیدا کرنا ہے۔ ایرانی قیادت نے اپنے بیانات میں واضح کیا ہے کہ امریکہ کی یہ پالیسیاں خطے کے ممالک کے باہمی تعلقات کے لیے زہر قاتل ثابت ہو سکتی ہیں۔ تہران نے پڑوسی ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کے دباؤ میں آ کر ایسے کسی بھی اقدام کا حصہ نہ بنیں جو خطے کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچائے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ معاشی پابندیاں دراصل ایک ایسی جنگ کا حصہ ہیں جس کا مقصد ایران کی ترقی کی رفتار کو روکنا ہے، اور خطے کے ممالک کو اس کھیل میں غیر جانبدار رہ کر اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران کو تنہا کرنے کی حکمت عملی کے اثرات اب واضح طور پر نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ واشنگٹن ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہر ممکن سفارتی اور معاشی راستہ اختیار کر رہا ہے، جس میں پڑوسی ممالک کو ایران سے دور کرنا بھی شامل ہے۔ تاہم، ایران کا کہنا ہے کہ اس کی پالیسی ہمیشہ سے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون اور خیرسگالی پر مبنی رہی ہے اور وہ کسی بھی صورت میں خطے میں امریکی اثر و رسوخ کی وجہ سے اپنے تعلقات خراب نہیں ہونے دے گا۔ مستقبل کے حوالے سے تہران کا عزم واضح ہے کہ وہ ان تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے جو امریکہ کی جانب سے عائد کردہ معاشی دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہو رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے یہ تنبیہ دراصل ایک سفارتی پیغام ہے جس کا مقصد پڑوسی ممالک کو یہ باور کرانا ہے کہ خطے کا امن اور سلامتی کسی بیرونی طاقت کے ایجنڈے کی محتاج نہیں ہونی چاہیے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خطے کے دیگر ممالک تہران کے اس پیغام پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور آیا وہ امریکی دباؤ کے باوجود تہران کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھ پاتے ہیں یا نہیں۔